Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Saturday, December 17, 2016

مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت پاکستان اہل کشمیر کی جائزوکالت سے گریزاں کیوں....؟


پروفیسر حافظ محمد سعید
#ڈھاکہ_ہم_بھولے_نہیں
23مارچ1940ءکی قراردادلاہور”خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی “کی بنیاد پرپاکستان کے قیام کا سبب بنی تھی۔اس قراردادمیں مطالبہ کیاگیاتھا کہ ہندوستان کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے وہاں ان کی آزاد اور خودمختار مملکت تسلیم کی جائے۔ چنانچہ لارڈماﺅنٹ بیٹن نے مسلمانوں اور ہندوﺅں کے لئے الگ الگ وطن کے قیام کامطالبہ تسلیم کرتے ہوئے 3جون 1947ءکوتقسیم ہندکامنصوبہ پیش کر دیا۔ اس طرح پاکستان اوربھارت کے نام سے دو آزاد اور خود مختارملک معرض وجود میں آئے۔ آزادی ¿ ہند کے جس اصول کی روسے بھارت قائم ہوا، اسی اصول کی رو سے پاکستان قائم ہواتھا۔ تقسیم کے بعد بھارت پاکستان کے کسی حصے پر دعوے یاقبضے کاحق نہ رکھتا تھا۔اسی طرح مشرقی پاکستان بھی مسلمہ اور مکمل طور پروفاق پاکستان کاحصہ اورصوبہ تھا۔ اندرا گاندھی بخوبی سمجھتی تھیں کہ مشرقی پاکستان متنازع نہیں اور نہ کبھی بھارت کاحصہ بن سکتا ہے۔اس کے باوجود انداراگاندھی نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے فضا ہموارکی،مکتی باہنی کی بنیادرکھوائی،علیحدگی پسندعناصرکی حوصلہ افزائی کی، دو بھائیوں کے درمیان غلط فہمیوں، نفرتوں اورعداوتوں کے بیج بوئے۔ بدقسمتی سے ہمارے اس وقت کے حکمران ان غلط فہمیوں کا بروقت ازالہ وتدارک نہ کر سکے۔ نتیجتاً غلط فہمیوں کے بیج بڑھتے بڑھتے ببول کے تناور درخت بن گئے۔ان درختوں کی خاردار شاخوں اور کانٹوںسے الجھ کر دونوں بھائیوں کے دامن تارتار،ہاتھ لہولہان اوربازوشل ہوگئے تھے۔”را“کی تربیت یافتہ مکتی باہنی اوربھارتی فوج نے مسجدوں کی سرزمین ڈھاکہ سمیت پورے مشرقی پاکستان میں محب وطن بنگالیوں کابے دریغ اور بے پناہ قتل عام کیا ۔پاکستان کا نام لینے والوں کی زبانیں اورپاکستان کا پرچم تھامنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے،مسجدوں میں پناہ گزین عفت مآب خواتین کوبے آبروکرکے ذبح کیاگیا، دودھ پیتے بچوں کو درختوں کے ساتھ لٹکا، تڑپا اور سسکا سسکا کر مارا گیا۔یہی مکتی باہنی تھی جس نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے لئے مشکلات اورمصائب کے پہاڑ کھڑے کئے۔محب وطن بنگالیوں کو چوکوں، چوراہوں، گلیوں، بازاروں،مسجدوں ،کھیتوں اور کھلیانوں میں ذبح کیا۔عسکری اور عوامی اہمیت کی حامل تنصیبات کو تباہ کیا۔ اس سفاک گروہ کے ہاتھوں محب وطن بنگالیوں پر جو گزری ان میں سے ہرواقعہ اپنی جگہ ایک مستقل عنوان ہے۔جمال احمد.... مشرقی پاکستان کے گورنرمنعم خان کی کابینہ میں وزیر تھے،سلہٹ کے رہنے والے تھے،ظاہر وباطن ایک جیسا،نیک طینت پاکباز، خوش اخلاق ،خوش گفتار، سراپا ایثار، مہذب اورمحب وطن پاکستانی تھے۔مکتی باہنی جمال احمد کے گھر پرحملہ آورہوئی۔ اہل خانہ کے سامنے جمال احمدکوپکڑا،دونوں ٹانگوں کے ساتھ دو۔ رسے باندھے ،رسوں کودوجیپوں کے ساتھ باندھاگیا اورجیپوں کومخالف سمتوں میں چلادیا گیا جس سے جمال احمد کا پیٹ پھٹ گیا ،انتڑیاں زمین پر بکھر گئیں،کھوپڑی چٹخ گئی اورجسم دوحصوں میںچر گیا۔اس ایک واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ باقی محب وطن بنگالیوں پر کیا گزری ہوگی۔الغرض ظلم وستم کے وہی مناظر دھرائے گئے جو1947ءکے موقع پر دیکھنے میںآئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مکتی باہنی کے سازشی کردارکے سارے رازآشکاراہورہے ہیں لیکن کچھ رازایسے ہیں جوبہت پہلے آشکاراہوگئے تھے۔دکھ کی بات ہے کہ ہم وہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ آج جبکہ 16دسمبرکادن ہے لازم ہے کہ ہم ماضی کے ان زخموں کوکریدیں، ان حالات وواقعات کوتازہ کریں کہ شائد ہم اپنے دشمن کو پہچان لیں اور آئندہ کے لئے اس کے سازشوں کے بچھائے جال سے بچ جائیں۔ سابق بھارتی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی نے بہت پہلے پردہ اٹھادیا تھا انہوں نے اٹلی کی معروف خاتون صحافی” اوریانافلاچی“ کو27جون1975ءکوایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ”مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کاکوئی وجودنہ تھا۔ یہ سب کے سب بھارت کے تربیت یافتہ چھاپہ مارکمانڈوفوجی تھے جوبنگالی مسلمانوں کے بھیس میں اپریل1971ءسے دسمبر1971ءتک لڑتے رہے اوردنیا کویہ تاثر دیا جاتا رہا کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی پاک فوج کے خلاف ہتھیار بدست ہیں۔“ یہ تھی مکتی باہنی کی حقیقت اور اصلیت۔ بھارتی ذرائع کے بقول نومبر کے آخر میں مکتی باہنی اور اس کی ذیلی تنظیموں کی افرادی قوت دولاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ اس کے برعکس پاک فوج کی فائٹنگ فورس کی تعداد 45 ہزارکے قریب تھی۔حالات سخت نامساعد تھے،افرادی قوت اوراسلحہ کی کمی تھی،بھارت سے متصل مشرقی پاکستان کابارڈر طویل ،دشوار گزارتھااس کے باوجودپاک فوج کے جوانوں نے مکتی باہنی کی شورش اوربغاوت پرقابولیا تھا۔اندراگاندھی کوجب مکتی باہنی کی بغاوت بارآورہوتی نظر نہ آئی تواس نے 3دسمبر کواپنی 5لاکھ فوج کومشرقی پاکستان پر اعلانیہ حملے کاحکم دے دیا۔ اس طرح بھارت کی لڑاکا فوج کی تعداد 7لاکھ تک جا پہنچی، آخرغیروں کی عیاری ومکاری اپنوں کی نااتفاقی رنگ لائی اور16دسمبرکو مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا۔
 اندراگاندھی نے عسکری محاذ کو گرم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی کام کیا۔بھارت کے ایک عسکری تجزیہ نگار”روی راکھی“کے بقول اندراگاندھی نے مشرقی پاکستان کی سرحدوں سے متصل آسام میں نام نہاد مفرور بنگالیوں کے لئے کیمپ بنائے اور ان کیمپوں میں پناہ گزین بنگالیوں کی دوکروڑ تعدادکاڈھنڈوراپیٹاگیا تھا۔ اس کے بعداندراگاندھی نے بہت سے ممالک کے طوفانی دورے کئے اوردنیا کوباورکروایاکہ دوکروڑ بنگالی ہماری معیشت پربوجھ ہیں۔مزید یہ کہ دوکروڑ بنگالیوں کا ہمارے ہاں پناہ گزین ہونااس بات کاثبوت ہے کہ مغربی پاکستان والے مشرقی پاکستان کے لوگوں پرظلم کررہے ہیں، وہ اس ظلم سے بچنے کے لئے ہمارے پاس پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں اورہرصورت آزادی چاہتے ہیں۔ہم نے خالصتاََ انسانی ہمدری کی بنیاد پر ان لوگوں کواپنے ہاں پناہ دی ہے، لہٰذا یہ انسانی ہمدردی کامسئلہ ہے دنیا کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ہماری مدد کرے۔
پاکستان کادولخت ہونا.... بلاشبہ بھولنے اور بھرنے والا زخم نہ تھا۔ یہ ایسا زخم تھا کہ جس نے پاکستان کوداغ داغ اورلہو لہو کردیا تھا۔ سقوط بغداد اورسقوط غرناطہ کے بعد امت مسلمہ کو لگنے والایہ سب سے بڑازخم تھا اورایسا دلخراش حادثہ تھا کہ جس کے نتیجے میں پاکستان سے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی مملکت ہونے کااعزازچھن گیا تھا۔ نہرو کی بیٹی اندارا گاندھی کویہ کہنے کاموقع ملا کہ آج ہم نے دوقومی نظریہ کوخلیج بنگال میں ڈبودیا، مسلمانوں سے ہزارسالہ تاریخ کابدلہ لے لیا اوران کی عسکری برتری کا تصورپاش پاش کردیا ہے۔
بھارت کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے کہ مشرقی پاکستان جس کے ساتھ اس کا کچھ تعلق، واسطہ نہ تھااسے نہ صرف اپنا مسئلہ بلکہ متنازع بھی بناڈالا اوردوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی ناکامی ہے کہ مسئلہ کشمیر جوسوفیصد متنازع ہے اورپاکستان یقینی طورپراس کافریق بھی ہے۔ اسے دنیاسے منوانے اور تسلیم کروانے میں ناکام ہیں۔حالانکہ اگربدیہی نظر سے بھی دیکھاجائے تویہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھارت کے لئے اتنی ضروری نہ تھی جتنا پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ہوناضروری ہے۔ جب ہم کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قراردیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر ہمارے لئے زندگی اورموت کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کا دفاع، استحکام، بقا اور مستقبل مسئلہ کشمیر کے حل ہونے سے مشروط ہے۔ پاکستان میں بہنے والے سارے دریاﺅں کامنبع اور آکسیجن کشمیر ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اہل کشمیر کے ساتھ ہمارا دین وایمان کارشتہ ہے۔ان حقائق کاتقاضا تھا کہ ہمارے سارے سیاستدان ،حکمران ،مذہبی رہنما اور افواج پاکستان پوری یکسوئی ،دلجمعی اورطاقت کے ساتھ کشمیر کو یک نکاتی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے اس کی آزادی کے لئے نتیجہ خیز کوشش کرتے اوربھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرتے۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ70سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پسندیدہ ومحبوب مشغلہ قراردادوں کی منظوری اوراخباری بیانات تک محدود رہا ہے۔آج تک پاس ہونے والی قراردادوں کے پلندے اکٹھے کئے جائیں تو یقیناان کے پہاڑ بن سکتے ہیں لیکن یہ کاغذی پہاڑ بھارتی مظالم کے سامنے ڈھال نہیں بن سکتے ،مظلوم کشمیری بچوں پربرسنے والی پیلٹ گنوں، لاٹھیوں، بندوقوں، آنسو گیس، مرچی گیس کے شیلوں کارخ نہیں موڑ سکتے اورپاکستان کی طرف بہنے والا وہ پانی جسے بھارت نے روک رکھا ہے اس میں روانی نہیں لاسکتے اور نہ ہمارے سیاستدانوں کے فضاﺅں میں اچھالے جانے والے بیانات میزائل وراکٹ کاروپ دھارسکتے ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ جنگ برپا کی جائے اس لئے کہ جنگ کسی کے فائدے میں نہیں لیکن ہم یہ بھی پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ 1971ءمیں جنگ کے شعلے کس نے بھڑکائے تھے اورپاکستان کی سالمیت کو داغ داغ اور دولخت کس نے کیا تھا....؟ ہمارے حکمران عرصہ ہوا 16دسمبرکاسانحہ اوراپنے ماتھے پرلگا شکست کاداغ بھول چکے ہیں لیکن بھارت کی ڈھٹائی اوردشمنی کی یہ حالت ہے کہ مودی علی الاعلان پاکستان کوتوڑنے کااقرارواعتراف کررہا ہے۔ امسال بھی بھارت میں سرکاری سطح پر 16دسمبرکادن جشنِ فتح کے طورپرمنایا جارہاہے۔یہ بات یقینی ہے کہ جب فتح کا جشن منایاجاتا ہے تواس موقع پر حریف کی تباہی وبربادی کے تذکرے ہوتے اورمنصوبے بھی بنتے ہیں۔ گویا اب بھارت باقیماندہ پاکستان کے درپے ہے۔
 یہاں یہ امر سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ نے بھارت کو مشرقی پاکستان کاوکیل ہرگزمقررنہ کیا تھااورنہ بنگالی مسلمانوں نے بھارت کواپناوکیل بنایا تھا بلکہ بھارت زبردستی ان کا وکیل بن بیٹھا تھا، اس کے برعکس پاکستان کو اقوام متحدہ کی وساطت سے پوری دنیا نے کشمیر کاوکیل تسلیم کر رکھا ہے۔کشمیری مسلمان ”پاکستان کامطلب کیا، لاالہ الااللہ“ کے نعرے لگا کر سینوں پر گولیاں کھارہے اورہم لاالہ الا اللہ کے تقاضوں کوسمجھ رہے ،نہ پورا کر رہے اور نہ حقِ مسلمانی ادا کر رہے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے کلمہ توحید کے تقاضوں کوسمجھاہوتا توہمارے کشمیری بھائی یوں کسمپرسی وبے بسی کاشکار ہوتے اور نہ وہاں سے روزانہ لاشے اٹھ رہے ہوتے۔مقبوضہ جموں کشمیر میں اس وقت قیامت صغریٰ کا منظر برپا ہے،پانچ ماہ سے زندگی مفلوج ہے ،ہڑتال اورکرفیو ہے،بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔بھارتی حکمران ہرصورت کشمیری مسلمانوں کے حوصلے توڑنا اوران کے دلوں سے پاکستان کی محبت نکالنا چاہتے ہیں لیکن کشمیری قوم کے بہادر وشجاع سپوت پاکستانی پرچم سینوں سے لگائے ستونِ دارپرسروں کے چراغ رکھتے چلے جارہے ہیں۔ان حالات میں ضروری ہے کہ ہم اہل کشمیر کے مسائل ومصائب کوسمجھیں، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں،ان کے خون سے اپناخون ملائیں، اپنے اندر اتحادپیدا کریں ،تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرپوری قوت اوریکسوئی کے ساتھ بھارتی جارحیت کاجواب دیںاور مسئلہ کشمیرحل کروانے کی کوشش کریں۔ یہ بات طے ہے کہ مشرقی پاکستان پربھارتی جارحیت ناجائز اورغلط تھی اسی طرح مقبوضہ جموں کشمیر پر بھی بھارتی قبضہ ناجائز اورغلط ہے۔ بھارت ہم پر ناجائز جارحیت کرنے سے بازنہیں آرہابلکہ اس کی جارحیت وتخریب کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔سو ان حالات میں اپنے وطن کے دفاع اوربقا کے لئے ضروری ہے کہ بھارت کواس کی زبان میں جواب دیا جائے،سقوط مشرقی پاکستان کاقرض چکایا جائے اوراہل کشمیر کی جائز وکالت ومددکاحق اداکیا جائے۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers