Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Wednesday, November 11, 2015

علی عمران شاہین کا خصوصی کالم "یہ میرا بیٹا ہے۔۔۔ نہیں یہ میرا بیٹا ہے"



یہ انگار وادی کے جنوبی علاقہ کا ضلع کولگام اور اس کا گاؤں کھانڈی پورہ ہے۔ بھارتی فوج کو پتہ چلا ہے کہ یہاں بھارت کو سب سے مطلوب لشکر طیبہ کا کمانڈر ابو قاسم موجود ہے۔ ابھی اندھیرا چھانا شروع ہوا ہے کہ ہزاروں فوجی آناً فاناًسارے علاقے کا گھیراؤ کر لیتے ہیں۔ یہ محاصرہ اس قدر خاموشی سے کیا جاتا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی جاتی۔ رات کے آخری پہر لگ بھگ اڑھائی بجے یک دم سارا علاقہ گولیوں کی گھن گرج سے لرزنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہر گزرتے پل کے ساتھ دھماکوں اور زمین کا سینہ دھلا دینے والی بارودی آوازوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عالم یہ ہے کہ ایک اذان مکمل کرنے کے لئے 22جانیں دینے والے کشمیری آج اذان فجر نہیں دے پا رہے۔ صبح کا سورج طلوع ہوا، پھر کئی گھنٹے کی خاموشی کے بعد گیارہ بجے محاصرہ ٹوٹا۔۔۔ تو تب علاقے کے لوگوں کو پتہ چلا کہ گزری شب جو قیامت بیتی، اس میں تو ان سب کے دلوں کی دھڑکن، سب کی دعاؤں کا مرکز جنت ارضی کا وہ مہروماہ کہ جس پر وہ سب فدا تھے، ان سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو کر دوسرے جہاں کے سفر پر روانہ ہو گیا ہے۔

’’ابو قاسم بھائی شہید ہو گئے۔۔۔‘‘ یہ خبر جس جس کسی کو جیسے جیسے ملتی، لگتا کہ اس کا سینہ شق ہو گیا ہے اور لگتا کہ وہ بولنا بھول جاتا۔۔۔ زبانیں گنگ محسوس ہوئیں، دل ڈوبنے لگتے، آنکھوں کے سامنے اندھیرے چھانے لگتے۔۔۔ لیکن، جو تقدیر میں لکھا ہو، اسے بھلا کون ٹال سکتا ہے۔۔۔؟ بس یہی سوچ سب کو پھر سے جینے کا سہارا دیتی۔۔۔لمحوں،گھڑیوں میں یہ خبر علاقے بھر میں پھیلی تو یوں لگا جیسے آج سب گھروں کا سب سے لاڈلا چراغ گل ہو گیا ہے۔ سننے والوں کو کچھ ہوش آیا تو پتہ کرنا شروع کیا گیا کہ ابوقاسم بھائی کا جسد خاکی کہاں ہے۔۔۔؟ بتایا گیا کہ جسد خاکی بھارتی فورسز نے کولگام پولیس لائن پہنچا دیا ہے۔پل بھر میں سارے جنوبی کشمیر کی ٹریفک بند،سڑکیں سنسان، کاروبار زندگی معطل اور ہر دروازہ چوپٹ تھا۔۔۔ اب ہر طرف سے مرد و خواتین، بچے اور بوڑھے کولگام پولیس لائن کی جانب امڈے چلے آ رہے تھے۔۔۔ کسی کو ہوش نہیں تھا کہ اس کے ساتھ بھارتی فورسز کیا سلوک کریں گی۔۔۔؟ وہ تو جیسے بس اسی دھن میں مگن تھے کہ جہاں ابوقاسم پہنچ چکا، ہم سب بھی اس کے ساتھ ہی اس کی منزل پر جائیں گے۔ ’’ہم کیا چاہتے۔۔۔؟

آزادی۔۔۔ آزادی کا مطلب کیا۔۔۔؟ لاالٰہ الا اللہ۔۔۔ بھارت تیری موت آئی۔۔۔ لشکر آئی۔۔۔ لشکر آئی ‘‘کی فلک شگاف صدائیں ہر طرف بلند ہو رہی تھیں اور کشمیریوں کے ایک بحربے کراں نے پولیس لائن کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ ہر دم بڑھتے ہجوم، جوش و جذبہ اور بگڑتے حالات کو دیکھ کر پولیس نے ابوقاسم کا جسد خاکی ان کے حوالے کر دیا۔ کشمیریوں کو ابوقاسم کا جسد خاکی کیا ملا۔۔۔؟جیسے دنیا کی سب سے بڑی خوشی مل گئی۔ وہ سٹریچر پر رکھے ابوقاسم کو اٹھائے جنازہ کے لئے مقامی سکول کے میدان کی جانب بڑھ رہے تھے۔ تاحدنگاہ پھیلے اس ہجوم کے راستے میں سی آر پی ایف کا 18بٹالین ہیڈ کوارٹرز آ گیا۔غم و غصے اور جرأت و دلیری کے جذبات سے بپھرے کشمیریوں نے ہیڈ کوارٹرز پر پتھروں کی بارش کی، جانوں کے خوف سے آہنی وفولادی بنکروں کے پیچھے چھپی بھارتی فورسز نے بے تحاشا ہوائی فائرنگ کی کہ شاید کشمیری ڈر کر بھاگ جائیں گے لیکن آج تو سبھی جیسے جانوں کی بازی لگانے کی قسم کھا کر آئے تھے۔ کسی کشمیری کے پاؤں میں لغزش نہ تھی اور سبھی ابوقاسم کے راہی بننے کے جوش سے لبریز تھے۔ انہوں نے گولیو ں کی آواز سن کر کیمپ کے باہر کی خاردار تاروں اور بنکر کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور اسی انداز میں آگے بڑھ گئے۔ ہرکسی کی کوشش تھی کہ وہ ابوقاسم کے جنازے میں کسی طرح شریک ہو جائے۔ یہ سارا قصہ بھی منٹوں کا تھا کیونکہ سورج غروب ہونے سے پہلے تدفین بھی طے ہو چکی تھی۔ جسد خاکی کو جنازے کیلئے رکھا گیا تو ایک بزرگ ہاتھ میں دودھ کا گلاس لئے نمودار ہوئے کہ ہمارا بیٹا تو جنت کی حوروں کا دولہا بن کر جا رہا ہے، ہم اسے دودھ پلا کر روانہ کریں گے۔

ابوقاسم کی آنکھیں تو پہلے ہی کھلی تھیں۔ ان کی کھلی آنکھوں کو دیکھ کر کئی گھنٹے بھارتی فورسزان کے جسد خاکی پاس جانے سے خوفزدہ رہی اور بار بار گولیاں برساتی رہی تھیں۔ آنکھوں کے بعد اب ہونٹ کھول کر دودھ ٹپکایا گیا اور پھر۔۔۔ جسد خاکی اٹھانے سے پہلے ایک نیا تنازعہ کھڑا تھا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقہ کاکہ پورہ کے بے شمار لوگ اصرار کر رہے تھے کہ ابوقاسم بھائی کو ان کی وصیت کے مطابق ان کے علاقے میں سپردخاک کیا جائے گا۔ پلوامہ کے سرنو گاؤں کے ایک بزرگ محمد احسن آگے بڑھے اور بتانے لگے کہ یہ ان کے بیٹے تجمل کی لاش ہے جو دس سال پہلے گھر چھوڑ گیا تھا۔ دوسرا گروہ مقامی علاقے کھانڈی پورہ کا تھا جو کہہ رہا تھا کہ ابو قاسم انہی کے علاقے کے رہنے والے شخص محمد یعقوب کے بیٹے ہیں جو 22سال پہلے مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو گئے تھے۔ ہزاروں لوگ ایک طرف تو ہزاروں ہی دوسری طرف۔۔۔ دو گھنٹے اسی بحث و تمحیص میں گزر گئے تھے کہ یہہماراا بیٹا۔۔۔ ہمارے علاقے کا جوان ہے۔۔۔ تو دوسری طرف سے آواز آتی نہیں،یہ ہمارا بیٹا۔۔۔ ہمارے علاقے کا ہے۔ بالآخر مقام شہادت کو ترجیح دے کر کھانڈی پورہ میں تدفین کا فیصلہ ہوا۔شہادت کے فوری بعد ابوقاسم تو رخصت ہو گیا لیکن بھارتی فوج کے بیسیوں جوان کئی دن سے اس کی قبر پر بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ ہم نے تو سنا تھا کہ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بڑی دیر بعد تک انگریز لاش کے پاس جانے سے ڈرتے تھے لیکن یہاں تو معاملہ اس سے کہیں آگے ہے کہ قبر تک سے فوجی پہرہ نہیں ہٹایا جا رہا۔ منی سپر پاور کہلانے کا دعوے دار بھارت شاداں ہے کہ اس نے اپنے سب سے بڑے دشمن کو نشانہ بنایا ہے۔ شہادت کے فوری بعد انسپکٹر جنرل آف مقبوضہ کشمیر پریس کانفرنس کیلئے پہنچتا ہے تو خوشی سے پھولا نہیں سماتا کہ وہ جس ایک شخص کے پیچھے دس سال سے اپنا سب کچھ داؤ پر لگائے بیٹھے تھے آج ان کے نشانے پر آیا ہے۔ ہاں ،یہ وہی ہے جس کا نام سن کر لاکھوں ہندو فوج تھرتھرکانپتی تھی۔۔۔ جس کے سر کی قیمت پہلے بھارتی پولیس نے 10لاکھ مقرر کی تو اس کے بعد سی بی آئی نے مزید 10لاکھ کا اعلان کر دیا۔ ہاں، یہ وہی ہے جس نے بھارتی فوج کے بڑے بڑے فوجی کیمپوں اور قافلوں کو تہس نہس کیا ہے۔ ہاں، یہ وہی ہے جو حملے کرواتا ہی نہیں تھا، بلکہ خود میدان میں اتر کر بازوئے شمشیر زن بن کر جوہر دکھاتا ہے۔۔۔ ہاں، یہ وہی ہے جس نے 2005ء میں من موہن سنگھ اور سونیا گاندھی کے قافلے پر حملہ کر کے تباہی مچا دی تھی۔۔۔ ہاں، یہ وہی ہے جس نے ڈیڑھ سال بھارتی فوج کے کیمپ میں کینٹین بوائے بن کر وقت گزارا اور وہیں سے اندر کی خبریں لے کر اسی عرصے میں کتنے حملے کئے تھے۔

ہاں، یہ وہی ہے جس نے 8اکتوبر2015 کو مجاہدین کے خلاف سب سے زیادہ اور سب سے خطرناک آپریشن کرنے والے سب سے نامی گرامی انسپکٹر الطاف لیپ ٹاپ کو اس وقت بھون ڈالا تھا، جب وہ اس کی گرفتاری کیلئے سینکڑوں سپاہیوں کے ہمراہ ناکہ لگا کر کھڑا تھا۔ ہاں، یہ وہی ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں ساری جہادی تنظیموں کو باہم جوڑ رکھا تھا۔ بھارتی جنرل بتاتا ہے کہ یہ وہی ہے جس نے اب 20، 20 مجاہدین کے حملہ آور گروپ بنا رکھے اور اب تازہ دم کھیپ کو میدان میں اتارنے والا تھا۔ بھارتی جنرل ہمیشہ کی طرح الزام لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ یہ ملتان کا رہنے والا تھا، 28 سال عمر اور عبدالرحمن نام تھا۔اس ابو قاسم کے لئے انگار وادی میں کتنے دن ہڑتال رہی، کتنے کشمیری زخموں سے چور اور کتنے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پہنچے۔غائبانہ نمازجنازہ تلواروں کے سائے میں ادا کی جاتی رہی۔ بھارت خوشی سے نہال ہے لیکن اسے تو ابھی تک اندازہ نہیں ہے کہ ابوقاسم جن صفوں سے آیا ہے، وہاں کا ہر سپاہی ایسا ہی ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کا سودا اپنے رب سے کر لیا ہے، بھلا ان میں فرق کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟ جو آتے ہی مرنے اور ہمیشہ کی زندگی پانے کے لئے ہیں، تم انہیں کیسے مار سکتے ہو۔۔۔؟ کتنے سال گزرے، کتنی دہائیاں بیتیں،تمہارے توپوں کے جتنے گولے اور ملکوں کے جتنے وسائل تھے، وہ تم سب جھونک چکے لیکن انگار وادی کے ابوقاسم ختم نہیں ہو سکے۔۔۔ اور ہاں ،دیکھ لینا! یہ کبھی ختم نہیں ہوں گے اور یہ اپنا حق لے کر رہیں گے۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers