Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, April 13, 2015

علی عمران شاہین کا خصوصی کالم " ہم ہوئے کافر تووہ کافر مسلماں ہو گیا"


اوکسفرڈ جنوبی برطانیہ کا ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی کل آبادی ایک لاکھ 50ہزار 200ہے۔ برطانیہ کے بڑے شہروں کی فہرست میں اس کا نمبر 52ہے۔ اس شہر کا برطانیہ کی معیشت میں مرکزی کردار ہے، یہاں گاڑیاں بنانے کی صنعت، تعلیم، نشرواشاعت، آئی ٹی اور سائنسی دنیا سے تعلق رکھنے والے کاروبار کے مراکز ہیں۔ لیکن اس دنیا بھر میں شہرت کی وجہ وہ یونیورسٹی ہے جس کے متعلق کہا یہ جاتا ہے کہ یہاں تعلیم و تعلم کا آغاز 919سال پہلے یعنی 1096ء میں ہوا تھا۔ جامعہ قرویین فاس، (مراکش) اور جامعہ ازہر (قاہرہ)کے بعد اسے دنیا کی تیسری قدیم ترین یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دنیا کے ہر تعلیمی ادارے کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا الحاق اس یونیورسٹی سے اگر ممکن نہ ہو تو اس کے برطانیہ اور دنیا بھر میں پھیلے ذیلی اداروں سے ہی کسی کے ساتھ ہو جائے۔
جس کا اس کسی حوالے سے بھی کچھ بن نہ پائے تو وہ اس یونیورسٹی کا تعلیمی نصاب پڑھا کر سب کو اپنی طرف راغب کرتا ہے کہ یہ اعزاز ہی بہت بڑا ہے۔
اسی یونیورسٹی سے برطانیہ نے اپنے تعلیم و ترقی کے سفر کا آغاز کیا تو اس نے اگلا بڑا تعلیمی ادارہ کیمرج یونیورسٹی کی شکل میں1209ء میں کھولا ۔یوں برطانیہ کے ان اداروں سے مسلسل وہ عالی دماغ تیار ہوتے رہے جنہوں نے دنیا میں برطانیہ کی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھ کر اس کے مذہب اور اس کی تہذیب کو پروان چڑھانا تھا۔اسی کیمرج یونیورسٹی سے نیوٹن تیا ر ہوا تھا تو آج کے دور کا سب سے بڑا سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کیمرج یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ ہے۔
لگ بھگ ہزار سال پہلے برطانیہ نے ساری دنیا پر اپنی زبان،تہذیب اور نظام کے غلبے کا خواب لے کر کام شروع کیا تو صدیوں کے اس سفر کے بعد وہ وقت آیا کہ پھردنیامیں کوئی ان کے سامنے کھڑا نہ ہو پایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تاج برطانیہ کی سلطنت اتنی پھیل گئی کہ ہر زبان سے یہ جملہ ادا کیا جانے لگا ’’سلطنت برطانیہ پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔‘‘
یہی انگریز ہمارے خطے یعنی برصغیر پہنچے تو انہوں نے یہاں کے مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کے بعد اہل ہند کو بدترین غلامی میں جکڑا اورساتھ ہی ان پر اپنا مذہب، نظام اور تہذیب مسلط کر دی۔ انتہائی طاقتور انگریز کی جابرانہ حکومت کے باوجودبرصغیر میں عیسائیوں کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہ تھی لیکن انگریزنے ہر شہر کے مرکز ی مقام پر وسیع و عریض رقبہ مختص کر کے ایک نہیں، کئی کئی عالیشان چرچ بنائے حالانکہ بیشتر کی یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔اس کے ساتھ ساتھ انگریز نے اپنے مخالف مسلم مذہبی طبقے کی سخت مذمت کر کے انہیں گالی بنایا۔
مساجد و مدارس کو بزور طاقت ختم کیا گیا اور ان کی جگہ انگریزی تعلیم کے لئے جو بڑے بڑے ادارے بنائے گئے، ان سب کی عمارتیں بھی چرچ کی طرز پر بنائی گئیں۔ آج برطانیہ ہی نہیں، ساری مغربی دنیا بشمول امریکہ میں چرچ مٹ رہے ہیں، ان کی نیلامیاں ہو رہی ہیں، ان کی ویرانی قابل دید ہے مگر ہمارے خطے میں یہ تصور بھی نہیں کہ کوئی چرچ ویران و نیلام ہو گا۔ اگرچہ عیسائی گنتی میں ہیں لیکن ان کے لئے فنڈز آج بھی انہی ملکوں سے آ رہے ہیں جنہوں نے انہیں بنایا تھا۔ اس سب کے باوجود جھوٹ پر کھڑی یہ عمارت کس قدر کمزور اور بودی ثابت ہو رہی ہے کہ جس اسلام اور اس کے ہر نظام کے خلاف انگریز نے لگ بھگ ہزار سال تک جنگ کی، وہی اسلام اب ان کے ہر گلی کوچے میں مقبولیت کے بام عروج پر ہے۔
2اپریل2015 کو امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ تحقیقاتی ادارے ’’پیو ریسرچ سنٹر‘‘ نے ایک ایسی تفصیلی رپورٹ جاری کہ جس کی اب سارے جہاں میں دھوم ہے۔بتایا گیا کہ 2070ء تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا اور عیسائی مذہب سب سے زیادہ افرادی کمی کا شکار ہو گا۔کہا گیا ہے کہ ہندو مت اور بودھ مت میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔ اسی ادارے نے چند ہفتے پہلے یہ رپورٹ جاری کی تھی کہ یورپ میں جس تیزی کے ساتھ اسلام مقبول ہو رہا ہے، اگر اس شرح میں مزید اضافہ نہ بھی ہوا تو اگلے 20سال کے بعد اسلام ہی یورپ کا سب سے بڑا مذہب ہو گا۔اس کی تصدیق کچھ عرصہ پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یوں کی تھی کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کی ایک مسجدجس کا نام ’’مسجد الصحابہ‘‘ ہے ،میں ہر سال لگ بھگ 150ایسی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جن میں مقامی لوگ آ کر اجتماعی طور پر اسلام قبول کرتے ہیں۔چند ہفتے قبل بی بی سی ورلڈ نے بتایا کہ برطانیہ میں گزشتہ10سال کے عرصہ میں مسلمانوں کی آبادی 11لاکھ سے بڑھ کر27لاکھ ہو گئی ہے۔
یہاں ایک ہزار سے زائد مساجد ہیں جن میں سے بیشتر وہ ہیں جو مسلمانوں نے عیسائیوں کے ویران ہو کر نیلام ہونے والے چرچوں کو خرید کر بنائی ہیں۔ یہاں ہر سال ہزاروں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں جن میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی ہوتی ہے جو اپنے معاشرے میں خواتین سے ہونے والے سلوک سے نالاں اور اسلام کے نظام عفت و عصمت سے متاثر ہوتی ہیں۔یہی صورتحال باقی یورپی اور غیر مسلم دنیابشمول امریکہ کی ہے ۔
’’پیو‘‘ نے 2اپریل کی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا میں اس وقت ایک بہت بڑی آبادی وہ بھی ہے جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو عیسائی قرار دے کرعیسائیت کو دنیا کا سب سے بڑا اکثریتی مذہب بتایاجاتا ہے، ان میں سے بھی اصلاً محض 2سے 3فیصد ایسے ہیں کہ جن کا عیسائیت کی طرف میلان اور تعلق ہے وگرنہ کل کی عیسائی دنیا آج کے دور میں عیسائیت کو سرے سے چھوڑ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے چرچوں میں جانے والا کوئی نہیں اور ان کے باہر ’’برائے نیلا م‘‘ کے بورڈ نصب ہیں۔
کسی نے آج کی اس عیسائیت کی مذہبی بے بسی کا منظر دیکھنا ہو تو ان کے مرکز ویٹی کن کی ویرانی دیکھ لے جہاں سال بعد مذہبی تہوار پر بمشکل چند ہزار لوگ پوپ کا خطاب سننے کیلئے جمع ہو تے ہیں۔5اپریل2015 کو عیسائی دنیا کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ایسٹر منایا گیا۔اس موقع پر جو عیسائی ویٹی کن میں جمع ہوئے ،ان کی تصاویر دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑے مذہب سمجھے جانے والے عیسائی مذہب اور اس کے ماننے والوں کی اصل حالت زار کیا ہے؟
کیا آپ نے سنا کہ فرانس میں چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کے بعد فرانس میں اسلامی کتب کی خریداری تین گنا بڑھ گئی ہے؟ کیا آپ نے سنا کہ5اپریل ہی کے روز فرانس میں مسلمانوں کے مطالبات کیا تھے؟ یہ کہ اس ملک میں انہیں مساجد کی تعداد دوگنا کرنے کی اجازت دی جائے کہ ملک میں موجود2200مساجد انتہائی تنگ پڑ چکی ہیں۔فرانس کی حکومت نے یہاں مساجد پر ہر طرح کی پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں لیکن معاملہ الٹ ہی چل رہا ہے۔
اس سب کے بیچ بس یہاں سوال صرف اتنا ہے کہ ہم مسلمان آخر اپنے مذہب کے ساتھ کتنا تعلق جوڑے ہوئے ہیں اور اس پر کس قدر عمل پیرا ہیں؟انگریز کے آنے سے پہلے ہمارے خطے میں مسلمانوں نے ہزار سال حکومت کی لیکن افسوس کہ ان کی بنائی مساجد کو انگلیوں پر ہی گنا جا سکتا ہے۔پھر بھی اسلام اپنی سچائی اور حقانیت کی بناپر اہل مغرب کو تب بھی مات دے گیا اور اب بھی۔اب یہ سوال آج ہمارے سامنے ہے کہ کہیں ہمارا حال بھی ایسا تو نہیں کہ
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers