Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, April 13, 2015

حیات عبداللہ کا خصوصی کالم "مکہ و مدینہ۔۔۔ اور محبت کا قرینہ"


شرق و غرب کی بے پایاں وسعتوں تک بے کراں اخوت اور مودت کے ایمان یافتہ جذبات کی لڑی انہی مقدس مقامات کے باعث پھیلی ہے، معلوم نہیں کن کن گیلوں کوچوں میں بھٹکنے والے لوگ، کیسے کیسے قبیلوں اور ذاتوں کے پھنے خانوں، چودھریوں اور راٹھوں کی پلکیں وہاں پہنچتے ہی بھیگ جاتی ہیں، خبر نہیں کیسے کیسے رعونت شعار لوگوں کے دل جب کملا جائیں، جب ان کے ایمان و ایقان کی حرارت پر اوس پڑنے لگ جائے تو پھر وہ لڑکھڑاتے قدموں، کپکپاتے جسموں اور بے تاب آنسوؤں کی جھڑی لے کر دیار نبیﷺ جا پہنچتے ہیں، ان گنت لوگوں کی آنکھیں حرمین کو دیکھنے کے سپنے دیکھتی ہیں؟ غفلتوں کے مارے لوگ جب گناہ کرتے کرتے تھک جائیں، جب ان کے دل عصیاں سے لبالب بھر جائیں تو پھر ان کی آنکھیں مکہ و مدینہ کی زیارت کے لئے مچلنے لگتی ہیں، خبر نہیں وہاں کیسی رحمتوں کی پھواریں برستی ہیں کہ ہر پریشان خاطر شخص مطمئن و مسرور ہو کر لوٹتا ہے۔
میں خود ابھی تک حرمین شریفین کی زیارت سے محروم ہوں اور یہ احساسِ محرومی بعض اوقات زندگی کا ایک روگ سا محسوس ہونے لگتا ہے، کتنی ہی بار جب خیالات کے دھارے اس سمت بہنے لگتے ہیں تو آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے کہ جب بیت اللہ پر میری پہلی نظر پڑے گی تو میرا کیا عالم ہو گا؟ میرے جذبات اور احساسات میں کیسے کیسے تلاطم پیدا ہوں گے؟ ان ایمان آفریں لمحات میں بیت اللہ کو دیکھنے کے لئے جب پہلی بار اشکوں کے بوجھ سے لدی اپنی پلکیں ہولے ہولے اٹھاؤں گا تو میری کس قدر ہچکیاں بندھ جائیں گی! میں اپنے اللہ سے کیا کچھ مانگتا چلا جاؤں گا۔ رحمتوں اور برکتوں کی برکھا میں نہائے میرے وجود کے انگ انگ میں کیسے کیسے ایمانی غنچے کھل اٹھیں گے؟
میں کتنی ہی بار یہ سوچتا ہوں کہ جب میری زندگی میں وہ گراں مایہ لمحات آئیں گے تو میں اپنے رب کے حضور دعائیں کہاں سے شروع کروں گا اور ان کا اختتام کہاں پر ہو گا، بیت اللہ اور روضۂ رسولﷺ کے متعلق سوچ سوچ کر ہی دل میں ہر طرف بھینی بھینی خوشبوئیں ہلچل مچا دیتی ہیں، مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے اور خطے کا مکین ہو، اس کے خیالات میں مکہ و مدینہ ہی بسے ہیں، یوں یہ دو حرم مسلمانوں کے خیالات میں ہم آہنگی کا منبع ہیں، یہ آرزوؤں اور تمناؤں میں ایک جیسے رنگ بھرتے ہیں، تقدیس اور تحریم کے یہ انداز کسی اور جگر کو نصیب نہیں کہ دنیا کے سوا ارب سے زائد مسلمان ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود بیت الہ کی طرف منہ کر کے تھوکنا تک پسند نہیں کرتے اور دنیا کے تمام مسلمان جہاں بھی ہوں نماز پڑھنے کے لئے کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں، اذان کی آواز سماعتوں سے ٹکراتے ہی لوگ اللہ کے گھر کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کے لئے گھروں سے نکل پڑتے ہیں اور یہ انداز کس قدر عقیدت سے شاداب ہے کہ جب کوئی بھی مسلمان مرتا ہے تو قبر میں دفن کرنے کے بعد اس کا رخ کعبے کی طرف کر دیا جاتا ہے، اس لئے کہ ہدایت کے سوتے وہیں سے پھوٹتے ہیں اور ہدایت کی ماخذ جگہوں سے ہم بے وفائی کر ہی نہیں سکتے، مکہ و مدینہ کا تقدس نبی مکرمﷺ نے یوں بیان فرمایا ہے:
’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے دن سے ہی اس شہر کو محترم ٹھہرایا ہے اور وہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمت سے قیامت تک محترم رہے گا مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس شہر میں قتل و قتال حلال نہیں ہوا اور میرے لئے بھی دن کی گھڑی بھر کے لئے حلال ہوا تھا، پس وہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حرمت کے تحت قیامت تک کے لئے قابل احترام ہے لہٰذا اس میں اگے ہوئے درخت کو کاٹا نہ اکھیڑا جائے، نہ اس میں شکار بھگایا جائے، نہ اس میں گری پڑی چیز اٹھائی جائے البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو اسے مالک تک پہنچائے، اس شہر کی گھاس نہ کاٹی جائے، حضرت عباسؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! اذخر (کی اجازت دے دیجئے) کہ یہ لوگوں کے چولہوں میں جلانے اور گھروں میں (چھتوں پر ڈالنے کے لئے) استعمال ہوتی ہے، تب آپﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی اجازت ہے۔‘‘ (مسلم)
مسلمانوں کے لئے دوسرا حرم مدینۃ النبیﷺ ہے، اس کی حرمت کے لئے بخاری شریف میں حدیث ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں، مدینہ میں نہ کبھی طاعون پھیلے گا نہ دجال داخل ہو گا۔‘‘ نبیﷺ نے فرمایا جو شخص مدینہ میں مرے گا، میں اس کے لئے سفارش کروں گا۔‘‘(ترمذی)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ یا اللہ! مکہ کو تو نے جیسی برکت عطا فرمائی ہے مدینہ کو اس سے دوگنی برکت عطا فرما۔ (بخاری)
یہ کچھ ’’اصحاب فہم و دانش کیسے دل دکھا دینے والے عجیب تبصرے کر رہے ہیں کہ ابھی حوثی دہشت گردوں سے سعودی عرب کو خطرات لاحق نہیں، ابھی ان دہشت گردوں کا سعودی عرب پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں، سو سعودی عرب فوج ابھی نہ بھیجی جائے، اتنے حساس اور مقدس مقامات کے متعلق اس قدر غفلت شعاری پر کیوں زور دیا جا رہا ہے؟ مکہ و مدینہ سے ہماری نسبتیں اتنی نحیف و ناتواں تو نہیں کہ ہم ان سے اتنی بے رخی برت لیں، ایسے لوگ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ جب پاکستان میں فوج اور حکومت کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد ہیں اور ان ک وپوری شدت کے ساتھ کچلنے کے لئے پوری قوم کا نقطہ نظر ایک ہی تھا تو پھر یمن میں حکومت کے خلاڑ لڑنے والے لوگ دہشت گرد کیوں نہیں؟ جب شام اور عراق میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے داعش دہشت گرد ہیں تو یمنی مسلمانوں اور حکومت کے خلاف لڑنے والے یہ لوگ دہشت گرد کیوں نہیں؟ اگر یہ بھی دہشت گرد ہیں تو پھر ان کے لئے دلوں میں اس قدر خیرسگالی کے جذبات کیوں امڈ آئے ہیں؟ کہ انہیں یمن پر قبضے کے بعد اتنا مضبوط ہونے کی مہلت دی جائے کہ وہ سعودی عرب پر حملے کی جسارت کریں۔
لاریب پاکستان میں حکومت اور فوج کے خلاف لڑنے والے کوئی بھی ہوں، وہ دہشت گرد ہیں تو پھر اسی زاویہ نظر اور انداز فکر کے مطابق حوثی بھی دہشت گرد ہیں پھر مجھے کہنے دیجئے کہ حرمین کے متعلق غیرجانبداری کا مشورہ دینے کو میں مکہ و مدینہ سے غداری کے مترادف سمجھتا ہوں، ایک کالم نگار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ پاکستان کے نزدیک تمام عرب ممالک قابل احترام ہیں، یقیناًایسا ہی ہے تمام عرب تو کیا تمام مسلم ممالک قابلِ صد احترام ہیں مگر عرب ملکوں کے حوثی جیسے دہشت گرد تو قابل احترام نہیں ہیں اور ان دانش وروں کی طبع نازک پر چاہے جتنا بھی گراں گزرے، میں یہ بات ضرور لکھوں گا کہ عزت اور احترام کے پلڑے میں سعودی عرب کا مقابلہ دوسرے کسی عرب ملک سے کرنا ہی سرے سے غلط ہے کہ یہاں تو مکہ و مدینہ ہیں، اپنی اپنی علمی موشگافیاں بھگارتے وقت اور پاکستان کو غیرجانبدار رہنے کے پندونصائح کرتے وقت مکہ اور مدینہ کو کیوں بھول جاتے ہو؟ کیا تمہارے احساس دَرُوں سے یہ بات محو ہو چکی ہے کہ اگر تم کہ مکہ مدینہ جانے کا موقع مل گیا تو پھر کس منہ سے جاؤ گے؟ یہ لوگ اس اٹل حقیقت کو بھی بھول رہے ہیں کہ ایک دن مرنا ہے اور مرنے کے بعد تمہارے منہ بھی بیت اللہ کی طرف موڑ دیئے جائیں گے پھر اپنے رب کو کیا منہ دکھاؤ گے؟

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers