Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Saturday, April 4, 2015

===== حرمین شریفین کا دفاع سب سے مقدم امت کو ایک ہی نقطے پر جمع ہونا ہو گا =====


سرزمین حرمین شریفین سعودی عرب ایک نئے خطرے سے دوچار ہے۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے سعودی عرب نے عرب لیگ کا دو روزہ اجلاس طلب کیا جس میں طے ہوا کہ اب عرب ممالک کے دفاع کے لئے 40 ہزار کی مشترکہ فوج بھی بنائی جائے گی۔ اس خطرے کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے اپنے سب سے اولین اور ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ نبھانے والے دوست سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ ہو یا افریقی ممالک، مشرق بعید ہو یا یورپ یا دنیا کا کوئی اور خطہ۔ ہر جگہ مسلمانوں کو گھیر گھیر کر اور باہم لڑوا کر مارنے، ختم کرنے اور ساری دنیا پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کے خواب دیکھنے والا ملک امریکہ ہی ہے۔ امریکہ نے ہی اس وقت سعودی عرب کے عین ساتھ واقع ممالک عراق، شام میں جنگیں بھڑکا رکھی ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ ان دونوں ممالک میں جاری جنگ بالآخر سعودی عرب میں داخل ہو اور مسلمانوں کا ہر لحاظ سے مرکز و محور، دنیا میں حدود اسلامی کو قائم کرنے والا اور امن کا گہوارہ یہ ملک خانہ جنگی اور تباہی و بربادی کا اس طرح شکار ہو جس طرح عراق اور شام ہیں۔
یہ حرمین شریفین کے خلاف ایک بہت بڑی اور منظم سازش ہے جس کے ڈانڈے اسرائیل سے بھی ملتے ہیں جس نے اپنے نقشہ میں، اپنی خیالی حدود میں مکہ اور مدینہ کو بھی شامل کر رکھا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ عراق میں امریکہ حملہ کر کے کل تک کے اتحادی صدام حسین کا دھڑن تختہ کر کے اسے پھانسی پر بھی لٹکا دے گا۔ اس امریکہ نے بلاجواز عراق پر بھی حملہ کیا تو اس کے بعد وہاں اپنی مرضی کی جو حکومت قائم کی اس کے ہاتھوں اب عراق مکمل بربادی کے دہانے پر ہے۔ ہر طرف لوٹ مار اور تباہی کا بازار گرم ہے۔ امریکہ نے پہلے شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا پھر جب بشارالاسد کو خطرہ لاحق ہوا تو اسی کا ساتھی بن گیا۔ یوں اب شام کا عظیم ملک خاک و خون میں غلطاں اور سارا ہی ملک ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی ملک کا حکمران خود ہی اپنے ہاتھوں یوں اپنے ملک کو تباہ اور اپنے عوام کو قتل کرے جس طرح شام میں ہو رہا ہے، ہرگز نہیں۔ اب امریکہ نے اگلی سازش کے تحت سعودی عرب کو ہدف بنا لیا ہے تو ان حالات میں ہماری ہر لحاظ سے یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ارض حرمین سعودی عرب کے دفاع میں جیسے اور جس طرح ممکن ہو کھڑے ہو جائیں۔ یہ اچھا ہوا کہ اب یہاں قومی، دینی و سیاسی جماعتوں کو بھی اس مشکل کا ادراک ہو رہا ہے اور وہ سعودی عرب کے دفاع کے لئے حکومت پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ ہر صورت اور ہر حال میں ذہن میں رکھنا چاہئے کہ سعودی عرب ہمارا سب سے بڑا محسن اور دوست ہے اور جب محسن اور دوست پر مشکل وقت آئے تو اس کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے۔ یہ سب ہمارے پیش نظر ہونا چاہئے کہ سعودی عرب پاکستان کے لئے کیا کچھ کرتا رہا اور کیا کچھ کر رہا ہے۔
گزشتہ سال اپریل میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم سعودی عرب کو چھوٹے ہتھیار اور جنگی طیارے فروخت کر رہے ہیں۔ ہمارے ہتھیاروں کی صنعت ترقی پا رہی ہے۔ یہ وہی سعودی عرب ہے جس نے گزشتہ سال پاکستانی ترقیاتی فنڈ کے لئے بلاوجہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ دیا تھا تو آسمانوں تک پہنچا ڈالر یک دم نیچے گرا اور پاکستانی معیشت جو آخری سانسوں پر محسوس ہوتی تھی کو ایک بڑا سہارا ملا تھا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگیں بھی گواہ ہیں کہ سعودی عرب نے ہمارا ہر ممکن کھل کر ساتھ دیا تھا۔ سعودی عرب وہ تھا کہ جب پاکستان نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو جو ہمارے اس پروگرام کو آگے بڑھانے کے لئے خفیہ اور علانیہ ہر موقع پر ہر ممکن طریقے سے معاون رہا۔ اب لوگ تسلیم کرتے ہیں جبکہ ہمارے ایٹمی پروگرام کے لئے کم از کم 60 فیصد امداد سعودی عرب نے ہی فراہم کی ہے اور وہی ایٹمی پروگرام آج پاکستان کا سب سے بڑا دفاع ہے جس نے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو روک رکھا ہے۔ ہمیں وہ وقت یاد ہے جب 1998ء میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے تو ساری دنیا نے ہمارے ملک پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے اس موقع پر بھی ہمیں ساڑھے 5 ارب ڈالر کی امداد نقد اور تیل کی صورت میں دی تھی اور ہمیں مشکل سے نکالا تھا۔ کتنے سال ایٹمی دھماکوں کی خوشی میں سعودی عرب ہمیں روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار بیرل تیل مفت دیتا رہا۔ جنوری 2014ء کو دونوں ممالک نے دفاعی معاملات کو یکجان کر کے فروغ دینے کا اعلان کیا تو سعودی سرمایہ کار ہمارے ہاں سرمایہ کاری کے لئے پاکستان آتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سعودی حکومت ہی ہے جو اب یہاں پاکستان میں زرعی اجناس کاشت کر کے پھر انہیں خود اپنے ملک برآمد کر کے ہمیں قیمت ادا کرنے کی تجویز دے چکی ہے جس سے پاکستان کو تیل بھی سستا ملے گا تو لاکھوں ایکڑ بنجر پڑی زمینیں بھی آباد ہوں گی۔ کیا ہم یہ نہیں دیکھتے کہ سعودی عرب ہی وہ ملک ہے جہاں 40 لاکھ پاکستانی لوگ برسرروزگار ہیں جو سالانہ اربوں ڈالر ہمیں زرمبادلہ کے طورپر بھیجتے ہیں۔ ہمیں یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یمن میں تو ہمارے تین ہزار لوگ مقیم تھے جنہیں خطرہ ہوا تو ہمیں ان کو نکالنے کے لئے جان کے لالے پڑ گئے۔ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی لوگوں میں سے جرائم کا ارتکاب کرنے والے بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں لیکن سعودی عرب نے اس بنیاد پر کبھی پاکستانیوں کا اپنے ملک میں داخلہ بند نہیں کیا بلکہ اب بھی ان کی ترجیح دنیا کے کئی ملکوں کی کئی گنا سستی لیبر کو چھوڑ کر پاکستانی لیبر ہی ہے۔ جب 40 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں تو سعودی عرب کا دفاع ہمارا اپنا دفاع بنتا ہے۔ اللہ نہ کرے اگر دشمن کامیاب ہوا اور یہ 40 لاکھ پاکستانی پاکستان واپس آئے تو ہمارے ملک کا کیا بنے گا؟ جتنی رقم ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے کشکول لے کر ذلت کے ساتھ قرضہ کی شکل میں وصول کرتے ہیں اس سے زیادہ ہمیں سعودی عرب سے عزت کے ساتھ ملتی ہے۔ پاکستان میں جب کبھی کوئی ناگہانی آفت آئی، سعودی عرب کی امداد اور تعاون سب سے پہلے اور سب سے زیادہ دیکھنے کو ملا۔ 2005ء کا زلزلہ ہو یا اس کے بعد آنے والے مسلسل سیلاب، سعودی کردار ہمارے سامنے ہے۔
سعودی عرب کا دفاع حرمین شریفین کی وجہ سے سب سے زیادہ مقدم و ضروری ہے۔ اگر سعودی عرب کے دشمن اپنے ناپاک عزائم کی جانب قدم بڑھاتے ہیں تو لازمی طور پر وہاں جانے کے سارے راستے اور مقامات غیرمحفوظ ہوں گے۔ ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی رپورٹوں کے مطابق یمن کے باغیوں نے حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس دھمکی کے بعد تو ہمیں کسی صورت سعودی عرب کے دفاع اور تعاون سے ہاتھ کھینچنے کا تصور بھی ذہن سے نکال لینا چاہئے۔
ایک دانشور نے کیا خوب لکھا ہے کہ پاکستان کے عرب ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ مضبوط اور گہرے تعلق کی بنا پر ہمارے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کو وہاں قدم جمانے کا موقع نہیں ملا ورنہ دنیا کی دوسری بڑی ریاست تو سب کے لئے کشش کا باعث تھی۔ اگر ہم نے اس موقع پر سعودی عرب کا ساتھ نہ دیا تو لازمی طور پر بھارت آگے آئے گا اور اپنے کندھے پیش کر کے ہمیں نئی مشکل میں ڈال دے گا جس طرح اس نے نائن الیون کے بعد امریکہ کو پاکستان کی جگہ پیش کش کر دی تھی اور اب وہ ایک بار پھر افغانستان میں امریکہ کو مدد و تعاون فراہم کر کے پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے۔ سعودی عرب کا حالیہ معاملہ کوئی مسلکی جھگڑا نہیں بلکہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔ صاف نظر آتا ہے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ دنیا کے کسی مسلم ملک کو امن و سکون کے ساتھ نہیں رہنے دیں گے۔ کیا یہ ہمارے سامنے نہیں کہ یہ ظالم مسلمانوں کا دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی حل نہیں کرتے بلکہ انہیں الجھاتے، لڑواتے اور مرواتے ہیں۔
افریقہ کے تمام مستحکم مسلم ممالک اس وقت اس امریکی آگ میں جل رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ دہک رہا ہے تو اب نشانہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک ہیں جہاں امن قائم ہے۔ سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کی ایک سازش 2011ء میں بھی بحرین کے راستے ہوئی تھی جسے سعودی عرب نے کمال حکمت و فراست سے قابو کر لیا تھا۔ یہی دکھ اس سازش کے رچانے والوں کو کھا رہا ہے اور اب وہ ایک نیا سازشی جال لے کر سامنے آئے ہیں۔ ہمیں ان حالات میں حرمین شریفین کے تحفظ و دفاع کے لئے ہرممکن طریقے سے سعودی عرب کا ساتھ دینا ہے تاکہ ہم اس ناپاک سازش کو ناکام اور ملک و ملت کومحفوظ بنا سکیں۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers