Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, April 13, 2015

مولانا امیر حمزہ کا خصوصی انٹرویو "سعودی عرب اور ایران کے نظام حکومت آمنے سامنے"


جرار: بعض حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ یمن سعودی عرب کشیدگی سے سعودی بادشاہت کو خطرہ ہے، حرمین کو نہیں اور ایران میں حقیقی اسلامی انقلابی حکومت ہے۔ اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے؟
مولانا امیر حمزہ: پوری دنیا میں مختلف قسم کے نظام حکومت رائج ہیں، مثال کے طور پر امریکہ میں صدارتی نظام نافذ ہے اسی طرح فرانس میں بھی صدارتی نظام ہے لیکن فرانس کا صدارتی نظام امریکہ کے صدارتی نظام سے بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ اسی طرح کئی ملکوں میں بادشاہی نظام ہے۔ برطانیہ پوری دنیا میں جمہوریت کی ماں کہلواتا ہے ، لیکن وہاں بھی بادشاہت موجود ہے اور جمہوریت بھی چلتی ہے۔ اسی طرح دیگر کچھ یورپی ممالک میں بھی بادشاہت ہے، ڈنمارک اور بلجیم میں بادشاہت ہے۔ اب اسی طرح مسلمان ممالک میں خاص طور پر دو ممالک ایسے ہیں جن کا طرز حکومت موجودہ حالات میں زیربحث ہے اور وہ ہیں سعودی عرب اور ایران۔ ایران میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں اسلامی انقلاب لایا گیا ہے جبکہ سعودی عرب میں بھی انقلاب ایران سے بہت عرصہ پہلے شاہ عبدالعزیز آل سعودؒ کے دور میں ایک اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی اور اب تک قائم چلی آ رہی ہے۔ اب ہم دونوں ملکوں میں رائج طرز حکومت اور نظام حکومت کا موازنہ کرتے ہیں۔
میں سعودی عرب کے نظام حکومت کو معروف معنوں میں بادشاہت نہیں کہوں گا۔ جو اس کو بادشاہت کہتے ہیں وہ اس نظام حکومت سے ناواقف و ناآشنا ہیں۔ ہمارے ذہن میں بادشاہت کا عمومی تصور یہ ہے کہ بادشاہ جو کرتا تھا، جو بولتا تھا، جو حرف بھی اس کی زبان سے ادا ہوتا تھا وہ قانون بن جاتا تھا لیکن سعودی عرب میں ایسی بادشاہت کا نظام نہیں ہے۔ آپ ان کے نظام حکومت کو دیکھیں آپ اس کے دستور و قانون کو ملاحظہ کریں، آپ کو ان کے دستور کے اندر ابتداء میں ایک اہم ترین بنیادی شق دیکھنے کو ملے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا نظام قرآن اور سنت ہے، قرآن اور حدیث ہے۔ پھر انہوں نے حدیث کی بھی تعریف کی ہے کہ اللہ کے نبیؐ کے فرمان اور عمل دونوں ہی حدیث یا سنت ہیں۔ یہ ہے اس ملک کا قانون اور دستور۔ اب آپ اس کو کس طرح بادشاہت کہہ سکتے ہیں؟
اگلی بات دیکھیں کہ جب سعودی عرب میں شاہ کا انتخاب ہوتا ہے تو اس کیلئے باقاعدہ ایک بیعت کونسل قائم کی گئی ہے، جہاں باہم مشاورت کے ساتھ نئے بادشاہ کا انتخاب ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ باپ فوت ہو گیا تو پھر اس کا بیٹا ہی بادشاہ بنے گا، لیکن چونکہ ان کا ایک بہت بڑا خاندان ہے جو ہزاروں افراد پر مشتمل ہے اس لئے شاہ کا انتخاب بیعت کونسل کرتی ہے، پھر اس کی توثیق کیلئے باقاعدہ انہوں نے اپنے دستور میں لکھا ہوا ہے کہ امرھم شوریٰ بینھم، یعنی مشورے سے ان کے سارے معاملات طے ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک بہت بڑی شوریٰ ہے جس میں پورے سعودی عرب سے قبائلی نظام کے تحت ہر علاقے اور قبیلے سے شوریٰ کا ایک ایک رکن لیا گیا ہے جس میں باہم مشاورت سے تمام معاملے طے ہوتے ہیں۔ اس کو آپ کس طرح بادشاہت کہہ سکتے ہیں؟ اسی طرح نیچے شہروں کی سطح پر آ جائیں۔ وہاں بلدیات کا ایک باقاعدہ نظام ہے اور اس کے ممبران کا انتخاب اور چناؤ ہوتا ہے۔ یوں بلدیات کا نظام جسے معروف معنوں میں بنیادی جمہوریت کہا جاتا ہے گراس روٹ لیول پر موجود ہے۔ کیا ہم اس نظام کو بادشاہت کہہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!
اسی طرح ملک میں چونکہ اسلام عملی طور پر نافذ ہے، اس کے لئے انہوں نے ایک مجلس قائم کی ہے جس کا نام ھیءۃ کبار العلماء یعنی ملک کے بڑے بڑے جید ممتاز علماء کی ایک کونسل یا مجلس بنائی گئی ہے، جس میں مملکت کو درپیش کوئی بھی مسئلہ شرعی اور دینی اعتبار سے دیکھنے، پرکھنے اور حل کئے جانے کے لئے پیش ہوتا ہے اور اس مجلس کو اتنا اختیار حاصل ہے کہ اگر بادشاہ بھی ٹیڑھا ہو کر چلے تو اسے بھی معزول کیا جا سکتا ہے، یہ ہے اس نظام کا حسن۔
اس ضمن میں پاکستان کی مثال پیش کروں گا، جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں 73ء کے آئین میں ایک ترمیم 58(2)B کے ذریعے سے صدر کو یہ اختیارات دیئے گئے تھے کہ وہ اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے، بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس ترمیم کو بہتر نہ جانا تو انہوں نے اس کو بھی ایک ترمیم کے ذریعے سے ختم کر دیا، یعنی ملکوں میں حالات کے مطابق قانون سازی ہوتی رہتی ہے۔ آپ دیکھیں کہ سعودی عرب کے اندر خالص اللہ سے ڈرنے والے، اللہ کے لئے فیصلے کرنے والے، کتاب و سنت پر عمل پیرا ہونے والے علماء کی ایک بہت بڑی مجلس ہے، جسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بادشاہ کو بھی معزول کر سکتی ہے۔ اب ایک مثال بھی ہے کہ شاہ عبدالعزیز آل سعودؒ جب فوت ہو گئے تو ان کے صاحبزادے شاہ سعود بادشاہ بن گئے، لیکن ان کے بارے میں علماء کی مجلس میں چند مسائل پیش کئے گئے اور اس مجلس نے مشاورت کے بعد شاہ سعود کو معزول کر کے عہدے سے ہٹا دیا اور شاہ فیصل کو بادشاہ بنا دیا۔ اس لئے سعودی عرب کے نظام حکومت کو معروف معنوں میں بادشاہت (ملوکیت) کہنا بالکل غلط ہے اور جسے دنیا اصطلاحاً بادشاہت کہتی ہے وہ نظام سعودی عرب میں نافذ نہیں، اس لئے جب ہم ان کے نظام کو دیکھتے ہیں تو میں لوگوں کی تفہیم کیلئے اسے آج کے دور کی بہترین اسلامی، جمہوری بادشاہت کہتا ہوں،جو اس وقت دنیا کی بہترین اور خوشحال فلاحی ریاست ہے۔ پوری دنیا نے آل سعود کی سعودی عرب کے عوام کیلئے خدمات کو سراہا ہے۔
اب ہم ایک نظر ایران کے نظام حکومت کو دیکھتے ہیں۔ وہاں صدارتی نظام ہے، ارکان اسمبلی کا انتخاب بھی ہوتاہے، سپیکر کا چناؤ بھی ہوتا ہے، لیکن ذرا پیچھے جائیں تو جو اہل تشیع کے امام ہیں، جناب امام خمینی، انہوں نے ایران میں ایک عہدہ تخلیق کیا تھا جسے ولایت فقیہ کہتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں ولایت فقیہ کے منصب پر فائز تھے، ان کی وفات کے بعد علی خامنہ ای کو یہ ولایت فقیہ کا منصب حاصل ہے۔ یہ امام غائب کا نمائندہ ہوتا ہے یعنی جب تک غائب ہونے والے امام مہدی ظاہر نہیں ہوتے یہ ان کے اختیارات استعمال کریں گے۔ اسی طرح علی خامنہ ای کی وفات کے بعد جو بھی اس عہدے پر فائز ہو گا، اسے سپریم لیڈر کے اختیارات مل جائیں گے۔
اب ذرا دیکھیں کہ سپریم لیڈر کو ایران میں کیا مقام حاصل ہے؟ ان کو ایران میں تمام اختیارات حاصل ہیں۔ ان کی مرضی کے بغیر ایران میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ حتیٰ کہ مذہبی طور پر بھی ان کی سپرمیسی ہے۔ وہ مذہب کی جو تشریح کریں گے، وہی رائج ہو گی۔ اب سپریم لیڈر کے نیچے علماء کی ایک مجلس ہے جس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے ایک، دو، تین، چار یا اس سے زائد جتنے بھی امیدوار ہیں ان کی منظوری دے گی، اس مجلس کے سربراہ ولایت فقیہ کے حامل سپریم لیڈر ہوتے ہیں، یہ مجلس ہی امیدواروں کی اہلیت، اخلاق و کردار کی چھان پھٹک اور کسی بھی فرد کے ایران کے لئے مفید ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد پر کاغذات مسترد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ لیکن جس طرح دنیا میں رائج جمہوریت میں ہوتا ہے کہ جس کا جی چاہے الیکشن لڑے، جماعت بنائے، ویسا ایران میں نہیں بلکہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کیلئے وہاں مجلس اور سپریم لیڈر کی منظوری ضروری ہے۔ اسی طرح اس مجلس کے ذریعے سے سپریم لیڈر کا ایران کی سیاسی جماعتوں پر بھی مکمل ہولڈ ہے اور سیاسی جماعتیں کنٹرولڈ بھی ہیں، اب پہلے تو اپنی مرضی کی سیاسی جماعتیں اور پھر ان جماعتوں سے اپنی مرضی کے امیدواروں کا انتخاب۔
یوں اس کے بعد امیدواروں کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی جاتی ہے، اس لئے ایران میں جو بھی صدارتی امیدوار کامیاب ہو گا وہ انہی کے فریم ورک سے ہو گا۔ چنانچہ یہ ایک بہت ہی زیادہ کنٹرولڈ نظام حکومت ہے، جس میں اختیارات کا منبع سپریم لیڈر ہے۔ صدر یا پارلیمنٹ نہیں، یعنی سعودی عرب کے بادشاہ کو وہ اختیارات حاصل نہیں جو ایران کے سپریم لیڈر کو ہیں۔
سعودی عرب کے فرمانروا کو جو لوگ اصطلاحی معنوں میں بادشاہ کہہ دیتے ہیں میرا ان سے سوال یہ ہے کہ پھر ایران کے سپریم لیڈر کو کیا کہنا چاہئے؟ دنیا بھر کے جمہوری لوگ اسے مذہبی آمریت کہتے ہیں۔ آپ اس کو جو بھی نام دیں وہ اب آپ پر موقوف ہے، اس لئے میری گزارش ہے کہ سعودی عرب کے نظام حکومت کو بادشاہت کہنا ناانصافی ہے، بلکہ میری دانست میں صرف جدید سیاسی نظریات سے ہم آہنگ لوگوں کو سمجھانے کیلئے عرض کرتا ہوں کہ سعودی عرب کے نظام حکومت کو آپ اسلامی، فلاحی، جمہوری بادشاہت کہہ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سعودی عرب کا دعویٰ یا موقف نہیں میری ذاتی رائے ہے تاکہ جمہوریت سے متاثر لوگوں کو ان کے انداز و زبان میں سمجھا سکوں۔ اس لئے جو لوگ کہتے ہیں کہ یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ کشیدگی سے حرمین کو خطرہ نہیں بلکہ سعودی بادشاہت کو خطرہ ہے، وہ غلط تصویر پیش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کا موجودہ نظام حکومت ہر ممکن حد تک اسلامی فلاحی نظام حکومت ہے اور پھر آل سعود نے جو خدمت حرمین شریفین کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، اس ضمن میں میں عرض کر دوں کہ جب شاہ عبدالعزیز فرمانروا بنے تو حرم مکی کے اندر چار مصلے معروف تھے، اس کے علاوہ بھی کئی مصلے تھے۔ ایک مصلے پر جماعت ہوتی تو باقی دیکھتے رہتے، یوں مسلمانوں کی ساری جمعیت منتشر تھی۔ اس منتشر امت کو شاہ عبدالعزیز نے حرم کے اندر متحد کیا۔ فرقہ واریت کا خاتمہ کیا۔ میں تو اس نظام حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے اتحاد امت کا فریضہ سرانجام دیا۔
جرار: عرب لیگ کے اجلاس میں مشترکہ عرب فوج کا قیام عمل میں آیا ہے، آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مولانا امیر حمزہ: ہم تو ایک عرصہ سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ 57 مسلمان ملک بھی ناٹو اور یورو کی طرز پر اپنی مشترکہ فوج اور کرنسی بنائیں، امن فوج بھی بنائیں۔ مسلم ممالک کے تنازعات کو مشترکہ اسلامی فوج حل کرے، خیر دیر آید درست آید۔ امریکہ اور ناٹو افواج عراق اور افغانستان میں آئیں توقتل و غارت کا طوفان اٹھا جو ابھی تک تھم نہیں رہا۔ شام اور لیبیا کا حال آپ دیکھ لیں کیونکہ یہودیوں اور صلیبیوں کا مقصد ہی مسلمانوں کا قتل عام ہے۔ اب جب یہی اسلام دشمن قوتیں یمن پہنچی ہیں تو خلیجی اور بعض عرب ممالک نے عرب فوج کے قیام کا بڑا خوش آئند اعلان کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں بات اس سے مزید آگے بڑھنی چاہیے اور 57 اسلامی ملکوں پر مشتمل اسلامی فوج بننی چاہیے جو مسلمانوں کے تنازعات اور مسائل حل کرے، امن قائم کرے اور وہ بیرونی طاقتیں جو ہمارا تماشا دیکھتی ہیں، وہ ان شاء اللہ ناکام ہوں گی اور عالم اسلام نئے انداز سے ابھر کر سامنے آئے گا۔ وسیع تر اتحاد مسلمان ملکوں میں امن کا ضامن ہو گا، ان شاء اللہ۔ اس ضمن میں مزید یہ کہوں گا کہ افواج پاکستان اپنی اہلیت، کارکردگی، ایٹمی صلاحیت، ڈرون صلاحیت اور نظریاتی اعتبار سے دنیائے اسلام کی جدید ترین افواج ہیں جن کا ماٹو ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ ہے اور ایسی بہادر اسلامی افواج کو مسلمانوں کی مشترکہ فوج کی سربراہی ملنی چاہیے، پھر دیکھیں کس طرح مسئلے حل ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔
جرار: سعودی عرب نے ہمیشہ کڑے وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے، حالیہ یمن سعودی عرب کشیدگی میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟
مولانا امیر حمزہ: سعودی عرب تو پاکستان اور اسلامیان برصغیر کی اس وقت سے مدد کر رہا ہے جب پاکستان بنا بھی نہیں تھا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے پہلے امریکہ میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایم ایچ اصفہانی کی زیر قیادت ایک وفد پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کیلئے بھیجا، جب یہ وفد وہاں گیا تو وہاں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں تو صرف رکن ممالک حصہ لے سکتے ہیں۔ اس وقت شاہ فیصل سعودی عرب کے وزیر خارجہ تھے۔ جب ان کو پتہ چلا کہ برصغیر میں علیحدہ مسلمان ملک کے قیام کی جدوجہد کرنے والوں کا ایک وفد اقوام متحدہ پہنچاہے تو انہوں نے وفد سے ملاقات کی، ان کے خیالات سنے اور پھر شاہ عبدالعزیز سے مشاورت کے بعد ایک مقامی ہوٹل میں اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کے نمائندوں کا عشائیہ رکھ لیا اور مسلمانوں کے وفد کو وہاں مدعو کیا۔
وہاں ایم ایچ اصفہانی نے اقوام عالم کے سامنے قیام پاکستان کا مقدمہ پیش کیا اور پھر شاہ عبدالعزیز نے قیام پاکستان کے لئے مسلم لیگ کو سب سے پہلے لاکھوں پاؤنڈ کا عطیہ بھی دیا۔ اس کے بعد پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے تعاون کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ آپ نے ایٹم بم بنایا، سعودی عرب نے مالی تعاون فراہم کیا۔ آپ پر پابندیاں لگیں تو اقتصادی تعاون فراہم کیا اور پھر تیل بھی دیا۔ ایک اور بات ذہن میں رکھیں۔ پوری دنیا میں پاکستانی افراد روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں لیکن پوری دنیا کے کسی ایک ملک میں پاکستانیوں کی سب سے بڑی تعداد اگر آباد ہے تو وہ سعودی عرب ہے جہاں 25 لاکھ پاکستانی آباد ہیں۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 یا 14 ارب ڈالر ہیں جس میں سے نصف حصہ یعنی 6 سے 7 ارب ڈالر کا حصہ صرف سعودی عرب میں مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی ڈسٹرب ہو گئے تو تصور کریں پاکستان کی معیشت کا کیا حشر ہو گا؟ یوں پاکستان کے ہر علاقے اور ہر مسلک کے لوگ پریشان ہو جائیں گے۔ اگر ہر پاکستانی کا خاندان آٹھ افراد پر مشتمل تسلیم کریں تو دو کروڑ پاکستانی سعودی معیشت پر خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔
مزید برآں! ہم تو ایک ڈیڑھ ارب ڈالر یا دو ارب ڈالر کے لئے آئی ایم ایف کی منتیں کرتے ہیں اور پھر سودی قسطیں ادا کرتے ہیں اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور ان کی استحصالی پالیسیوں کو اپنے ملک میں نافذ کرتے ہیں تو بتلائیں سالانہ 6، 7 ارب ڈالر سے محرومی کاکیا کریں گے؟
حرمین کی سرزمین سے تو ہمارا عقیدہ، ہمارا ایمان وابستہ ہے اور اس کی حفاظت ہمارادینی و ملی فریضہ ہے اور جس طرح میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ اگر سعودی عرب کو کوئی خطرہ ہوا تو ہم اس کے دفاع کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ یمن کے باغیوں کو اسلحہ یہودی اور صلیبی دے رہے ہیں اور وہ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں بھی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اب سعودی عرب کا گھیراؤ کیا گیا ہے تاکہ اسے عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ ایسے حالات میں پاکستانی فوج پر فرض ہے کہ وہ حرمین کا دفاع کرے اور حرمین کا دفاع ہمیں اپنی جان، مال اور ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔
جرار: یمن سعودی عرب کشیدگی سے پاک چین معاشی راہداری کو کس طرح اور کیا خطرات درپیش ہیں؟
مولانا امیر حمزہ: یمن سعودی عرب کشیدگی کے پیچھے بہت بڑی عالمی سازش ہے۔ اب دیکھیں پاکستان میں پاک چین معاشی راہداری کا قیام عمل میں آ رہا ہے۔ چین کے صوبے کاشغر سے لے کر
انٹرویو امیر حمزہ

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers