Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Sunday, April 19, 2015

مولانا امیر حمزہ کا خصوصی کالم "یمن، سعودی عرب اور عالمی منظر"


کعبہ شریف کے چار رکن یا چار کونے ہیں۔ ان میں سے دو ارکان کے نام ’’رکن شامی‘‘ اور ’’رکن عراقی‘‘ ہیں۔ شام اور عراق کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے ناموں سے کعبہ کے دو رکن موسوم ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بتلاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ طواف کرنے لگے تو آپؐ نے مندرجہ بالا دونوں ارکان کو ہاتھ مبارک نہیں لگایا۔ پھرجب آپؐ تیسرے رکن یعنی رکن یمانی کے پاس تشریف لائے تو اسے ہاتھ مبارک لگایا، اگلا رکن پھر حجراسود ہے۔
کعبہ کے رکن ’’رکن عراقی‘‘ کی سمت میں عراق وہ ملک ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے امریکی سازشوں کا شکار چلا آ رہا ہے۔ اس کی حالیہ یلغار کے بعد ایران کو اثرورسوخ کا موقع دیا گیا اور اس وقت عراق کی حیثیت ایران کے بعد ایک دوسرے ایران کی ہے۔ سعودی عرب یہ ساری صورتحال دیکھتا رہا اور خاموش رہا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے کعبہ کے ’’رکن شامی‘‘ کی سمت میں واقع ملک شام بھی عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔ سعودی عرب نے اب بھی کوئی مضبوط کردار ادا نہ کیا اور خاموش رہتے ہوئے اپنا ہاتھ دور رکھا۔۔۔ پھر کیا ہوا؟ کعبہ کے یمنی رکن کی سمت میں واقع یمن بھی عدم استحکام سے دوچار ہو گیا۔
حوثی باغیوں کو ایران کی جانب سے ہر طرح کا تعاون مل گیا۔ اب کے سعودی عرب سے برداشت نہ ہوا۔ اس لئے کہ یمن کا بارڈر سعودی عرب سے تو 1800کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ بحراحمر میں سمندر کے ساتھ بھی ملا ہوا ہے لیکن ایران کے ساتھ یمن کا زمینی رابطہ ایک انچ کا بھی نہیں۔ سمندری رابطہ بھی کوئی نہیں۔ اس کے برعکس ایران خلیج عرب کے بھی دوسری جانب واقع ہے جبکہ یمن، بحراحمر اور بحرِ عرب پر واقع ہے۔ اس جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب نے اب اپنا ہاتھ بڑھایا اور سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے کہنے کے مطابق ’’سعودی عرب ایران کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے‘‘ وہ تو صرف وہاں باغیوں کی سرکوبی اور جائز حکومت کی بحالی کے لئے گیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران وہاں اپنی مداخلت بند کر دے تو مسئلہ حل ہو جائے گا‘‘۔
قارئین کرام! صورتحال کا ایک یہ پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تو ایک سال بعد عراق میں بھی فوجیں داخل کر دیں۔ افغانستان اور عراق میں شکست کے آثار دیکھے تو عراق کو ایران نواز نوری مالکی کے حوالے کر کے افغانستان میں توجہ مرکوز کر دی۔ ادھر شام کا محاذ گرم ہوا تو قریب تھا کہ بشار کی حکومت گر جائے مگر روس اور ایران کی مدد نے حکومت کو گرنے نہ دیا۔ اب امریکہ افغانستان کو چھوڑ کر واپس مشرق وسطیٰ میں بھاگا کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا کہ روس اور چین طاقتور ہو گئے ہیں۔ دونوں کی پالیسی باہم تعاون کرنے والی ہے اور وہ جنگیں لڑ کر پیچھے رہ گیا ہے لہٰذا مشرق وسطیٰ میں روس اور چین کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔
یاد رہے! دنیا کے وسائل سے وہی ملک فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کی حکمرانی کے اڈے سمندروں میں ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی سمندری موٹروے مشرق وسطیٰ سے گزرتی ہے۔ مشرق بعید کے سارے ملکوں کی تجارت بحرہند سے آگے بڑھ کرجب گوادر کے سامنے سے گزرتی ہے تو یمن کے ’’باب المندب‘‘ سے بحر احمر میں سے گزرتی ہوئی آگے بحرروم میں یورپ کے ساتھ جا ملتی ہے۔ افریقہ کا براعظم ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یوں اس بحری راستے پر جس کا کنٹرول ہو گا وہی دنیا کا تھانیدار ہو گا۔
مندرجہ بالا اس سارے روٹ میں اہم ترین سمندری پوزیشن یمن کی ہے کہ یمن کے بارڈر سے تین سو کلومیٹر دور سمندر میں ایک یمنی جزیرہ ہے جسے سقطری (SOCOTRA) کہا جاتا ہے۔ یہاں روس کا قبضہ تھا اس لئے کہ جنوبی یمن اس کا اتحادی تھا۔ پھر جب روس ٹوٹا، یمن ایک ہوا تو یہ جزیرہ بھی روس خالی کر گیا۔ 19جنوری 2010ء کو امریکی جرنیل پیٹریاس نے یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ معاہدہ کر کے یہ جزیرہ حاصل کر لیا۔ بحرہند اور بحرعرب پر نظر اور کنٹرول رکھنے کے لئے امریکہ کے پاس پہلے بھی ایک جزیرہ موجود ہے۔ یہ ڈیگوگارشیا کا جزیرہ ہے۔ امریکہ سے باہر پوری دنیا میں امریکہ کا یہ سب سے بڑا بحری اڈہ ہے۔ یہ سری لنکا سے شمال کی جانب کوئی ڈیڑھ ہزار کلومیٹر دور ہے جبکہ سقطری یا سکوٹرا سے3ہزار کلومیٹر دور ہے۔ یمن کے ساحل سے سکوٹرا صرف پونے تین سو کلومیٹر دور ہے۔ اس لئے امریکہ نے قریب ترین جگہ پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں ہوائی اڈہ اور دیگر بہت ساری تنصیبات کا کام مکمل ہو چکا ہے اور مزید کام جاری ہے۔ یاد رہے! امریکی بحری جہاز ’’کول‘‘ پر یمن سے ہی القاعدہ نے حملہ کیا تھا، لہٰذا جس کے کنٹرول میں یمن اور اس کا جزیرہ سکوٹرا ہو گا وہی دنیا کے سب سے بڑے سمندری راستے کو کنٹرول کرے گا۔
چین اور روس کی کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تیل اور گیس کے خزانوں کو سمندری اور زمینی راستوں سے اپنے تک لائیں اور پھر ان کی مصنوعات، خاص طور پر چین کی مصنوعات سمندری راستوں سے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور یورپ تک جائیں۔۔۔ اب ایران، روس اور چین کے مفادات کو سامنے رکھ کر ان کے ساتھ کھڑا ہے اور امریکہ جو اس کے ہاں ’’شیطان بزرگ‘‘ تھا، ایک عرصہ سے اندر ہی اندر اسے ’’برادر بزرگ‘‘ مان کر اپنے مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ یہ مفادات جب سعودی عرب کے ساتھ ٹکرائے ہیں اور کعبہ کی ہر سمت سے سعودی عرب نے اپنے گرد گھیرا دیکھا ہے تو اسے کعبہ کا چوتھا رکن حجراسود یاد آ گیا ہے کہ کئی سو سال پہلے ایسے ہی ایک گھیرے میں حجراسود کو یہاں سے اتار لیا گیا تھا اور پھر ایک عرصہ بعد خلیفہ وقت نے اسے واپس حاصل کیا تھا۔ چاندی کے فریم میں حجراسود کے تین ٹکڑے آج بھی تاریخ کے ایک کربناک منظر کو یاد کرواتے ہیں۔
بین الاقوامی سازشیں بڑی گہری اور پیچیدہ ہیں، پاکستان کے سامنے بھی یہ سازشیں پوری طرح موجود ہیں لیکن ایمان اور وقت کا تقاضا یہ ہے کہ سعودی عرب کی آواز پر لبیک کہا جائے اور معاملے کو رکن یمانی سے آگے ’’حجراسود‘‘ تک نہ جانے دیا جائے۔ پاک افواج نے کعبہ کی پاسبانی کا پہلے بھی حق ادا کیا ہے کہ جب کئی سال قبل گمراہ شرپسندوں نے مسجد حرام کے میناروں کو مورچے بنا لیا تھا۔۔۔ یہی پاک فوج آج بھی تیار ہے اور کہہ چکی ہے کہ ہم سعودی عرب کی سالمیت کا دفاع کریں گے مگر میاں نواز شریف کی حکومت کا فرض ہے کہ سازش کو یمن میں ہی روکے۔۔۔ آگے کا نہ سوچے۔

1 comment:

  1. But all arab hate Pakistanis and treat them worst than animals. They never gave Pakistans the same status as their citizens and infact treat them worst of all immigrant. The saudi arabs give preferance to philipino, burma, nepali, etc as they use their female for home maid and sex, and male as driver and also for gay sex. but Pk do not bear this. The most people who are hanged, beheaded and are in jails are Pakistanis, most for crime they never committed. even nawaz sharif factory hired all non-pk people in his facotores.. if arab want pk to have brothery relationship than pakistanis should be give visa free travel, visa free work permit and permanent residency in all arab coutries like EU does give to all European citizens despite being in differnt coutnries, differnt race and different languages. the Saudi and other arab money should be used for education and research in Pk, as Pakistan & turkey are/is the only muslims contry that can produce weapon of international standars.

    ReplyDelete

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers