Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, April 13, 2015

قاری یعقوب شیخ کا خصوصی کالم "ملکِ امن سعودی عرب اور یمن"


شرپسند عناصر کا کوئی مسلک و مذہب نہیں ہوتا۔ فتنہ و فساد، قتل و غارت، لڑائی جھگڑا ان کا مشن و شیوہ ہوتا ہے۔ بدامنی کو پروان چڑھانا، انسانی خون بہانا، درندگی پھیلانا ان کا محبوب و مرغوب مشغلہ ہوتا ہے۔ دین کا لبادہ اوڑھ کردنیا کی ہوس، حصول اقتدار کی کوشش، مسلمان حکمرانوں کی تکفیر، اسلام کے ماننے والوں کی تذلیل ان کا منہج و طریق ہے۔
یہ اس منصب کے لئے کوشش کرتے ہیں جس کے لائق نہیں، اہل اور مناسب نہیں۔ مطلوبہ ٹارگٹ نہ ملنے کی وجہ سے حسد کی آگ میں جل کر کوئلہ ہو رہے ہیں۔ دوسروں کو جلانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ معصوموں کی جانیں لے رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے آج شہر، علاقے، املاک اور اثاثے تباہ ہو رہے ہیں۔ ان حوثی باغیوں نے ایمان و حکمت سے مالا مال ملک یمن کا گھیراؤ کیا، یہاں بدامنی اور شرارت کو فروغ دیا، اغیار کے آلہ کار بنے، یار اور وفا دار بنے، اہل اسلام کا قتل عام کیا۔
اب اپنے کفیلوں کے کہنے پر سعودی حکومت کو گرانے اور کعبۃ اللہ پر قبضہ جمانے کا اعلان کر دیا ہے۔ بات بڑی عجیب ہے لیکن حقیقت پر مبنی ہے جسے کہے دیتا ہوں۔ بعثت رسولؐ کریم بلکہ ولادت رسولؐ معظم سے پہلے کعبۃ اللہ کو گرانے کا جذبہ لئے ابرہہ الاشرم آیا تھا تو وہ یمن کا حاکم تھا۔ وہ اپنی اس ناپاک مہم میں ناکام و نامراد ہوا۔
دوسرا واقعہ شاہ فارس خسرو پرویز کا ہے۔
رسولؐ کریم نے دنیا کے حکمرانوں کو خط لکھ کر دین متین کی دعوت دی تو شاہ فارس کو بھی خط لکھا خط پہنچانے کی ذمہ داری سید سیدنا عبداللہؓ بن حذافہ سہمی کی لگائی گئی۔ جب خط پڑھ کر کسریٰ کو سنایا گیا تو اس نے چاک کر دیا اور نہایت متکبرانہ انداز میں کہنے لگا: میری رعایا میں سے ایک حقیر غلام اپنا نام مجھ سے پہلے لکھتا ہے!
رسولؐ اللہ کو اس واقعے کی جب اطلاع ملی تو آپؐ نے فرمایا: اللہ اس کی بادشاہت کو پارہ پارہ کرے۔ ادھر آپؐ دعا کر رہے تھے ادھر کسریٰ نے اپنے گورنر باذان کو حکم نامہ جاری کر دیا کہ جو شخص حجاز میں ہے اس کے پاس اپنے دو مضبوط فوجی روانہ کرو اور وہ اسے میرے پاس حاضر کریں۔ باذان نے اس کی تعمیل کی۔ دو فوجی منتخب کر کے روانہ کئے جو باذان کا خط لے کر رسولؐ اللہ کے پاس آئے۔ باذان کا یہ خط دراصل گرفتاری کا آرڈر تھااور دھمکی آمیز باتیں تھیں جو آپؐ کو پڑھ کر سنائی گئیں۔ یہ دونوں قاصد بھی آپے سے باہر تھے کیونکہ بڑی طاقت کا نمائندہ ایجنٹ اور ان کا آلہ کار اپنے آپ کوطاقتور تصور کرتا ہے۔ انہوں نے آپؐ سے اپنے ہمراہ چلنے کا مطالبہ کیا۔ آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ آج آرام کرو، کل ملاقات کریں گے۔
ادھر عین اسی وقت جب مدینہ میں یہ دلچسپ واقعہ پیش آ رہا تھا خسرو کے گھرانے میں بغاوت کی آگ جل رہی تھی۔ خسرو اپنے ہی بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہو رہا تھا۔ بیٹا باپ کو قتل کر کے خود بادشاہ بن بیٹھا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے اپنے حبیبؐ کو سارا واقعہ بتا دیا۔ صبح یہ فارسی نمائندے آپؐ کو لینے کی غرض سے آئے تو آپؐ نے انہیں اس واقعے کی خبر دی۔ ان کے لئے تو یہ بات، یہ انداز، یہ واقعہ بڑا ہی قابل اعتراض تھا۔ انہوں نے کہا کیا ہم یہ واقعہ اپنے بادشاہ کو لکھ دیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ہاں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ میرا دین، میری حکومت وہاں تک پہنچ گی جہاں تک کسریٰ پہنچ گیا ہے، بلکہ اس سے بھی آگے وہاں تک جہاں اونٹوں اور گھوڑوں کے پاؤں نہیں پہنچے اور اپنے حکمران کو کہنا تم مسلمان ہو جاؤ تو جو کچھ تمہارے زیر اقتدار ہے وہ سب تمہیں دے دوں گا اور تمہیں تمہاری قوم کا بادشاہ بنا دوں گا۔ اس کے بعد وہ دونوں ایلچی مدینہ سے واپس پلٹے، باذان کو سارا واقعہ بیان کیا، یہاں تک کہ ہیڈ کوارٹر سے خط آیا کہ شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کر کے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ خط میں یہ بھی تحریر تھا کہ میرے باپ نے جس شخص کی گرفتاری کا تمہیں لکھا ہے تاحکم ثانی اسے پریشان نہ کرنا۔
قارئین محترم! کعبۃ اللہ پر حملہ کیا تو حاکم یمن نے۔ رسولؐ اللہ کی گرفتاری کے لئے جس حاکم کو حکم دیا گیا وہ بھی حاکم یمن باذان تھا۔ آج کعبۃ اللہ پر قبضہ کی باتیں اورسعودی حکومت کو گرانے کے تذکرے اور تدبیریں ہو رہی ہیں تو وہ بھی یمن سے۔ سعودی حکومت سے جن لوگوں کی دشمنی ہے وہ بھی بیت اللہ کی وجہ سے ہے۔ بعض قوتیں یہاں قبضہ جما کر اپنی شہرت اور دولت میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس خطے، اس ملک میں دین اور دنیا دونوں رکھے ہیں۔ یہاں مکہ و مدینہ ہے۔ یہاں سے روح اور نفس کو غذا ملتی ہے، عمرہ اور حج ہوتا ہے نماز اور طواف سے راحت و سکون ملتا ہے۔ یہ امن کے شہر ہیں، یہ سکون کی جگہیں ہیں۔ ان شہروں اور حرمین شریفین کی خدمت کی وجہ سے اور سیدنا ابراہیمؑ اور محمدؐ کریم کی دعاؤں کی بدولت اللہ تعالیٰ نے یہاں کے باسیوں کے رزق و روزی میں اضافہ کیا ہے، تیل کے ذخائر، سونے کی کانیں ان کو عطا کی ہیں۔ یہ سونے کی کانیں دشمنوں کو سونے نہیں دیتیں۔
اسی وجہ سے وہ سعودی عرب کو دھمکیاں دیتے ہیں، قبضے کی باتیں کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے یمنی باغیوں، حوثی فسادیوں پر حملہ کیا ہے تو اپنے دفاع کے لئے، حرمین کے تحفظ کے لئے، اپنی بقا اور اپنے عوام کے دفاع اور ملکی استحکام کے لئے۔ یہ اس کا آئینی، قانونی، اخلاقی اور دفاعی حق ہے، جس طرح دیگر ممالک کو حق ہے۔ اس موقع پر سعودی عرب کا پاکستان کو بلانا، آواز لگانا بھی درست ہے۔ ترکی کو ساتھ رکھنا بھی بالکل صحیح ہے کیونکہ یہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ ان کو سعودی عرب کا ہر حال میں ساتھ دینا ہو گا۔ اس لئے کہ ان باغیوں حوثیوں کی پشت پناہی صہیونی، صلیبی اور ان کے ہم مزاج وہم رکاب کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کو اکیلا چھوڑنا درست نہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ آج تک سعودی عرب نے کسی بھی مسئلہ میں پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ ہر مشکل موقع پر مدد کی ہے، ساتھ دیا ہے۔
ہم ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں ہیں تو اس کام کے جملہ اخراجات کس نے اٹھائے؟ جب تیل نہ ہونے کی وجہ سے پہیہ جام ہونے لگا تو تیل کے کنوؤں کے منہ پاکستان کے لئے کس نے کھولے؟ سیلاب اور زلزلے نے جب پاکستان کو دہلا اور ہلا کر رکھ دیا اور پانی کی موجوں نے فصل و نسل کو بے رحمی سے بے گھر اور غرق کیا تو وہ کون سا ملک تھا جو سب سے پہلے مدد کو آیا؟ وہ سعودی عرب ہی تھا۔ آج اس کا ساتھ دینے سے ہم جان چھڑائیں، دامن بچائیں اور آنکھیں چرائیں تو ہم سے بڑا بے وفا اور کون ہو گا؟ حرمین شریفین کا تحفظ اورسعودی عرب کا دفاع یہ ہماری دوستی اور دینی فریضہ دونوں میں شامل ہے جو ہمیں ہر حال میں کرنا ہے۔
رہی بات امن کی، تو امن یمن کے لئے ضروری ہے اور شہر امن مکہ و مدینہ اور ملکِ امن سعودی عرب کے لئے بھی۔ یہاں بیرون سے جو بدامنی کی کوشش کی جا رہی ہیں ان کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔ ’’ومن دخلہ کان افیا‘‘ اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کی رونقوں کو اسی طرح برقرار رکھے اور بلاد حرمین کی حفاظت فرمائے، آمین۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers