Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, April 13, 2015

پرو فیسر حافظ محمد سعید امیر جماعت الدعوہ پاکستان کا خصوصی انٹرویو "سعودی عرب اورحرمین کا دفاع اسلام کا دفاع ہے"


جرار: یمن اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس پردہ محرکات کیا ہیں؟
حافظ محمد سعید: یمن اور سعودی عرب کے درمیان جو جنگ اس وقت چھڑ چکی ہے اس کے پس پردہ اسلام دشمنوں کی گہری سازشیں ہیں۔ یہودی اس انتظار میں ہیں کہ اس علاقے کے اندر سعودی عرب کوکمزور کیا جائے اور وہاں کی مضبوط حکومت کو ختم کر کے وہاں لوگوں کو انتشار کا شکار کیا جائے۔ اس وقت مغرب یہودیوں کے ساتھ پوری طرح شامل ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ مدینہ منورہ یہودیوں کا ہے۔ وہ ہر صورت میں مدینے کو اپنے قبضے میں لیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے نبیﷺ نے یہودیوں کو مدینے سے نکالا تھا، اس لئے یہودی مدینے کو حاصل کر کے اپنا حق لینا چاہتے ہیں۔
اسی طرح نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ یہودیوں کو خطہ عرب سے نکال دو۔ وہ (یہودی) کہتے ہیں کہ اس کے جواب میں بھی عرب کے خطوں پر ان کا قبضہ ہونا چاہئے۔ صہیونی اس سازش میں کامیاب ہوئے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا ہے۔ یمن میں باغیوں کو کھڑا کرنے میں یہودی، امریکی اور مغربی صلیبی ملکوں کا بہت بڑا کردار ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ ایران یمنی باغیوں کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے اور ان کی مدد کر رہا ہے۔ یہ ایک بڑی تکلیف دہ بات ہے۔ ایران کو چاہئے کہ وہ اس یہودی سازش کوسمجھے اور قطعی طور پر اس سازش کا حصہ نہ بنے۔ اگر وہ اس سازش کا حصہ بنتا ہے تو اس سے امت مسلمہ کے اندر بہت بڑے بڑے مسئلے کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ یہودی یہی سازش رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہر جگہ اور ہر ملک میں آپس میں لڑایا جائے، کیونکہ شیعہ بھی مسلمانوں کے ہر ملک کے اندر آباد ہیں، سنی بھی آباد ہیں، تو اگر ہر جگہ یہ لڑائی کھڑی ہو جاتی ہے اور اس میں شدت آتی ہے تو نہ صرف یہ حرمین کے لئے خطرناک ہے بلکہ یہ پوری امت کے لئے تباہ کن ہے۔ اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پس پردہ اصل محرکات پرانی یہودی، صہیونی اور صلیبی سازشیں ہیں اور اس وقت ایران کا موجودہ کردار مسئلے کو بہت زیادہ بگاڑ رہا ہے۔ اس لئے عالمی سطح پر مسلمان حکمران اکٹھے ہوں اور ایران کو اس کی غلطی کا احساس دلائیں اور سعودی عرب کو اس کے دفاع کے لئے بھرپور قوت فراہم کریں تاکہ خطے سے یہودی اور صلیبی سازش کا خاتمہ ہو سکے۔
جرار: کیا سعودی عرب کی سیاسی و عسکری حمایت کرنا پرائی جنگ میں کودنا ہے؟
حافظ محمد سعید: یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں کی جنگ ہے۔ حرمین کا دفاع مسلمانوں کے لئے اپنی جانوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو اس کو پرائی جنگ کہتا ہے وہ تو بندہ ہی پرایا ہے۔ اگر حرمین کی جنگ ہم نے نہیں لڑنی تو کس نے لڑنی ہے؟ اور جو اس کو پرائی جنگ سمجھتا ہے اس کا اسلام کے ساتھ اور مسلمانوں سے کیا تعلق باقی رہ جاتا ہے؟ یہ مغربی میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے جس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب اور حرمین کا دفاع ہمیں اپنے ملکوں اور جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ یہ پرائی جنگ نہیں بلکہ یہی تو ہماری اصل جنگ ہے۔ یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کی جنگ ہے۔ اسے علاقائی جنگ یا سیاسی مخالفت یا دو ملکوں کے درمیان جنگ قرار دے دینا یا اس کو شیعہ سنی مسئلہ قرار دے دینا بالکل غلط ہے۔ اس وقت سعودی عرب اور حرمین کا دفاع اسلام کا دفاع ہے۔
جرار: بعض عناصر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب اور اتحادیوں کی کارروائی کی بنیاد فرقہ وارانہ اختلافات ہیں اور یہ ایک خاص مکتب فکر کے خلاف جنگ ہے۔ اس بات میں کس قدر حقیقت ہے؟
حافظ محمد سعید: ہم اس کارروائی کو فرقہ واریت کی بنیاد قرار نہیں دیتے، بلکہ یہی تو ہمارے دشمنوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ یہ فرقہ وارانہ لڑائی ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ بیت اللہ اور مسجد نبوی پر آ کر تو فرقے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ تو امت کے اتحاد کے مراکز ہیں۔ اگر موجودہ کارروائی کو فرقہ وارانہ قرار دے دیا جائے تو یہ تو فرقہ واریت ہی کو نہ سمجھنے والی بات ہے۔ ہم سب کو مل کر حرمین کا دفاع کرنا ہے اور اس سلسلے میں پوری امت کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا چاہئے اور اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔
جرار: حرمین شریفین کا تحفظ شرعی طور پر کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور امت مسلمہ کو اس سلسلہ میں کیا کردار ادا کرنا چاہئے؟
حافظ محمد سعید: حرمین شریفین کی ہمارے لئے ایسی اہمیت ہے جو انسانی جسم میں دل کی ہے۔ اگر دل ہی چلنا بند ہو جائے تو جسم میں جان ہی باقی نہیں رہتی تو اسی طرح یہ پورے عالم اسلام کے دل پر ہاتھ ڈالنے والی بات ہے اور ان کے مرکز کو تباہ کرنے والی بات ہے۔ حرمین شریفین کا تحفظ ہمیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ شرعی طور پر ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل اور اپنے عسکری فوجی وسائل استعمال کر کے حرمین کا دفاع کریں۔ مسلمانوں کے لئے اس دنیا میں بیت اللہ سے بڑی کوئی چیز نہیں اور اس کے دفاع سے زیادہ اہمیت کسی چیز کو حاصل نہیں۔ شرعی طور پر حرمین کا دفاع مسلمانوں پر فرض ہے۔
جرار: پاکستان میں میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کا اس معاملے میں کیا کردار ہے اور ان کو کیسا کردار ادا کرنا چاہئے؟
حافظ محمد سعید: سچی بات ہے پاکستانی میڈیا اور اپوزیشن جماعتوں کا اس معاملے میں کردار بہت تکلیف دہ ہے۔ اس مسئلے کو فرقہ وارانہ کشیدگی قرار دے کر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ قرار دے دیا گیا اور یوں اس کی اہمیت کو ختم کیا جا رہا ہے اس کے پس پردہ اصل محرکات اور سازشوں سے نظریں ہٹائی جا رہی ہیں۔ یہ اصل سازش کو بے نقاب کرنے کے بجائے اس سازش کا ساتھ نبھانے والی بات ہے۔ لہٰذا ان چیزوں سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ میڈیا حقیقت میں جو پروپیگنڈہ کر رہا ہے وہ بڑا ہی خطرناک ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک کے اندر مسلمانوں کی آپس میں لڑائیاں شروع ہو جائیں اور سعودی عرب کے دفاع کا معاملہ پس پردہ چلا جائے اور دفاع نہ ہو سکے نیز ہر مسلمان ملک کے اندر لڑائی شروع کرا دی جائے۔ اس سازش سے ہم سب کو نہ صرف آگاہ رہنا چاہئے بلکہ بچنا چاہئے۔
جرار: ایران کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
حافظ محمد سعید: ایران کو ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ آپ امت مسلمہ کا حصہ ہیں۔ آپ یہودیوں کے خلاف قبلہ اوّل کی بازیابی کے لئے ہمیشہ آوازبلند کرتے ہیں۔ اگر قبلہ اوّل کے دفاع کے لئے آواز بلند کرتے ہیں تو اس وقت مسلمانوں کا جو قبلہ ہے،یعنی خانہ کعبہ اس کا اور حرم مدنی کے تحفظ اور دفاع کی بات کرنا چاہئے لیکن اس کردار کے بجائے آپ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ اس معاملے کو بادشاہت کے کھاتے میں ڈال کر لوگوں کے اندر اختلافی نقطہ نظر پیدا کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ ہم ایران کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ بھی امت کا حصہ بنیں اور امت کے ساتھ مل کر حرمین کا دفاع کریں اور سعودی عرب کے دفاع میں کردار ادا کریں، باغیوں کا ساتھ نہ دیں۔ اگر آپ باغیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ان کو سعودی عرب اور حرمین کے خلاف قوت بناتے ہیں تو یہ بات درست نہیں۔ اصلاح کیلئے ہم ایران کو نصیحت کرتے ہیں۔ ہم ایران کے ذمہ داروں کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ آپ کو باغیوں کی پشت پناہی نہیں کرنی چاہئے اس سے آئندہ آگے چل کر امت کو کبھی ایک مقام پر اکٹھا نہیں کیا جا سکے گا، اور یہ مسلمانوں کی آئندہ آنے والی نسلوں تک انتشار پھیلانے والی بات ہے۔
جرار: سعودی عرب کے حالیہ کردار کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
حافظ محمد سعید: سعودی عرب نے درحقیقت اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے کیونکہ سعودی عرب کے خلاف جو گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، باغی بار بار دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور کئی حملے بھی کئے جا چکے ہیں اور وہ منظم ہو رہے ہیں تو سعودی عرب نے اس صورتحال کو بروقت بھانپ کر کارروائی کی ہے اور ہر کسی کو اپنے دفاع میں کارروائی کا حق حاصل ہے اس لئے ہم اس کارروائی کو بالکل برحق سمجھتے ہیں اور ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
جرار: پاسبان حرمین شریفین کے کیا مقاصد ہیں؟
حافظ محمد سعید: پاسبان حرمین شریفین ایک ایسا فورم تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کی تمام مسلمان جماعتوں اور تنظیموں کو اکٹھا کر کے حرمین کے دفاع کیلئے کھڑا کرنا ہے اور باہمی اختلافی نقطہ نظر ختم کر کے ان کو ایک مضبوط آواز کے طور پر منظم کرنا ہے۔ مزید برآں! ہماری کوشش ہو گی کہ حکومت پر زور دے کر اسے مجبور کیا جائے کہ وہ حرمین اور سعودی عرب کے دفاع کیلئے اپنے تمام وسائل استعمال کرے۔ عالمی سطح پر سعودی عرب کی حمایت کیلئے او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جائے۔ جس طرح عرب لیگ نے عربوں کی ایک فوج بنانے کی قرارداد منظور کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا دائرۂ کار وسیع کرتے ہوئے عالم اسلام کی ایک فوج بنانی چاہئے۔ کیونکہ پاکستان عالم اسلام کا دفاعی مرکز ہے، لہٰذا پاکستان کو چاہئے کہ وہ اسلامی ممالک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرے اور واحد ایٹمی اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے عالم اسلام کو ایک مضبوط دفاع مہیا کرے۔
جرار: جماعۃ الدعوۃ تحفظ حرمین شریفین کیلئے کیا کردار ادا کر رہی ہے؟
حافظ محمد سعید: جماعۃ الدعوۃ الحمدللہ آج عالم کفر کی سازشوں کے خلاف میدان میں کھڑی ہے، عالمی سازشوں کے مقابلے کیلئے لوگوں کی ذہن سازی کر رہی ہے، لوگوں کو اکٹھا کر رہی ہے، متحرک کر رہی ہے اور مسلمانوں کی ایک قوت کھڑی کر رہی ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کردار ادا کر رہی ہے۔ بھرپور عوامی مہم کے ذریعے سے جلسے کر رہی ہے۔ الحمدللہ لوگ جماعۃ الدعوۃ کی بات سنتے ہیں، اس مسئلے پر اے پی سی بلانا اور پاسبان حرمین شریفین فورم کا قیام جماعۃ الدعوۃ کی کاوش ہے اور آئندہ ان شاء اللہ عالم اسلام کی سطح پر بھی جماعت مفید ثابت ہو گی۔
جرار: پاکستان آپریشن ضرب عضب کی صورت میں داخلی طور پر دہشت گردوں کے خلاف مصروف عمل ہے تو کیا سعودی عرب کی عسکری حمایت سے یہ آپریشن متاثر ہو سکتا ہے؟
حافظ محمد سعید: یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ الحمدللہ پاکستان کے پاس اس قدر صلاحیت اور اہلیت ہے کہ وہ یہاں آپریشن ضرب عضب میں بھی اپنی فوجی صلاحیت استعمال کرے اور وہاں سعودی عرب اور حرمین کے دفاع میں بھی بھرپور کردار ادا کرے۔ بعض حلقے یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان دو محاذوں پر الجھ جائے گا۔ یہ درست نہیں۔ سچی بات ہے حرمین کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے اور ان شاء اللہ پاکستان اس ذمہ داری کو احسن انداز میں ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers