Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, April 13, 2015

محسن فارانی کا خصوصی کالم "یمن تاریخ کے آئینے میں (1)"


خطہ یمن کے شمال میں سعودی عرب، مشرق میں عمان، جنوب میں خلیج عدن و بحیرۂ عرب اور مغرب میں بحیرۂ احمر (قلزم) ہے۔ ماضی میں اس کی شمالی حدود مختلف رہی ہیں۔ آج کا نجران (سعودی عرب) نجران یمن کہلاتا تھا، یعنی یمن کا حصہ شمار ہوتا تھا۔ حضرموت (مشرقی یمن) میں ایک مقام قبر ہود کے نام سے مشہور ہے، مورخین کہتے ہیں کہ سیدنا ہود علیہ السلام کو حضر موت ہی میں دفن کیا گیا تھا۔ حضر موت کے شمال میں وادی احقاف تھی جہاں قوم ہود آباد تھی اور یہاں اس نافرمان قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ چنانچہ حضر موت میں کئی کھنڈر ایسے ہیں جو دارِعاد کہلاتے ہیں۔ سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی نسل میں ایک شخص قحطان تھے جو یمن میں آباد ہوئے اور یہاں ان کی نسل خوب پھلی پھولی۔ قحطان کے پڑپوتے سبابن یشجب بن یعرب تھے جن کے نام پر یہ ملک ’’سبا‘‘ کہلایا اور عربی زبان کا آغاز بھی قحطان سے منسوب ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ نمل میں سباکی ملکہ (بلقیس) کا ذکر ہے جس کی قوم آفتاب پرستی میں مبتلا تھی اور اس زمانے میں شام و فلسطین سے لے کر عراق و ایران تک اللہ کے پیغمبر سلیمان بن داؤد علیہما السلام حکمران تھے۔
سیدنا سلیمان علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو ملکہ سبا اور اس کے امراء مسلمان ہو کر حاضر خدمت ہو گئے۔ جہاں تک حضر موت کا تعلق ہے، عامر بن قحطان کی اس علاقے میں اس قدر شہرت تھی کہ وہ جس جنگ میں شریک ہوتا، کشتوں کے پشتے لگا دیتا، چنانچہ جہاں بھی جاتا، لوگ کہتے: حَضَرَ مَوتُ (موت آ گئی)۔ یوں لوگ اس خطہ زمین ہی کو حضر موت کہنے لگے، اسی طرح جب اہل حبش نے صنعاء (سابقہ نام اُزال) پر قبضہ کیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ شہر پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ وہ بے اختیار بول اٹھے: ھذہ صنعۃ (یہ تو کاریگری ہے)۔ اس وجہ سے اس شہر کا نام صنعاء پڑ گیا۔
سبا کے دو بیٹوں کہلان اور حمیر کے ناموں سے دو بڑے قبیلے مشہور ہوئے۔ بنو حمیر میں قضاعہ، بلی، سکسک، اسلم، کلب، جہینہ، عذرہ مشہور یمنی قبیلے تھے جبکہ بنو کہلان میں کندہ، ہمدان (اوسلہ)، لخم، جذام، مذحج، خولان، اشعر، عنس، طے، جُعفی، نخع، مراد طے، خزاعہ، مصطلق (جذیمہ)، ازد، جفنہ، اسلم، غافق، بجیلہ، غامد، بارق اور اوس و خزرج نے شہرت پائی۔ یمنی قبائل اسلامی فتوحات کے ساتھ مصر اور اندلس میں جا بسے۔
اہل یمن کی فضیلت اس سے ظاہر ہے کہ جب اللہ کے حکم سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے حج کی فرضیت کا اعلان کیا تو ان کی پکار پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے اہل یمن تھے۔ 1600 ق م میں احقافِ یمن میں سلطنت معین قائم ہوئی تھی جو خلیج عدن سے حجاز تک پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام معین یا القرن صنعاء کے شمال مشرق میں تھا۔ پھر مملکت سبا 1000 ق م کے لگ بھگ قائم ہوئی۔ یہ اللہ کے نبی اور بادشاہ سیدنا داؤد علیہ السلام کا دور تھا۔ مملکت سبا کے کتبات میں خدائے واحد کو ملکن ذوسمویٰ (آسمانوں کا مالک بادشاہ) لکھا گیا ہے۔ 378ء کے ایک کتبے میں الٰہ ذوسمویٰ کے نام سے معبد کی تعمیر کا ذکر ہے۔ شاہان سبا ’’مکارب‘‘ یا ’’مکرب‘‘ کہلاتے تھے۔ سبائی زبان میں ’’رب‘‘ کے معنی ہیں بڑا یا بادشاہ اور ’’مکا‘‘ کاہن یا مذہبی رہنما کو کہتے ہیں۔ یوں مکارب ’’کاہن بادشاہ‘‘ ہوئے۔ مکاربین سبا کا پایہ تخت صرواح تھا جس کے کھنڈر صنعاء اور مأرب کے درمیان ملتے ہیں۔ قوم سبا نے وادی اذینہ میں 800 ق م کے لگ بھگ سدمأرب تعمیر کیا تھا جو انسانی تاریخ میں پہلا آبی ڈیم تھا اور یہ تیرہ چودہ صدیوں تک کارآمد رہا حتیٰ کہ سیل عرم یعنی ’’بند کے سیلاب‘‘ نے اسے تباہ کر دیا۔ ’’عرم‘‘ جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن (ڈیم) سے ماخوذ ہے۔
سلطنت سبا اپنے عہد عروج (650 ق م تا 115 ق م) میں اریٹیر یا وایتھوپیا (حبشہ) تک پھیل گئی۔ اس دور میں شاہان سبانے ملک (بادشاہ) کا لقب اختیار کر لیا اور مأرب کو دارالسلطنت بنایا۔ اس کا دوسرا نام شہر سبا تھا۔ اس کے کھنڈر صنعاء سے 60 میل مشرق میں ملتے ہیں۔ سدمأرب کے بقیہ حصے پر جو کتبات ہیں ان میں اس ڈیم کے بانیوں میں سمہعلی ینوف اور ذمرعلی کے نام بھی ہیں۔ ایک کتبے (458ء) میں بردا رحمنن (رحمن کی مدد سے) اور دوسرے کتبے (465ء) میں الٰھن بعل سمین وارضین (آسمانوں اور زمین کا مالک معبود) کے الفاظ آئے ہیں۔ سبا کی بندرگاہوں میں چین کا ریشم، انڈونیشیا اور مالابار (ہندوستان) کے گرم مسالے، ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں، افریقہ کے زنگی غلام، بندر، شتر مرغ کے پر اور ہاتھی دانت پہنچتے تھے اور یمن سے یہ اشیاء مصر و شام اور یونان و روم کی منڈیوں میں جاتی تھیں۔ ادھر یمن کی پیداوار سے لوبان، عود، عنبر، مشک اور مر کی تجارت ہوتی تھی۔ عدن اور حضر موت کے تجارتی راستے مأرب پر ملتے تھے جہاں سے ایک شاہراہ مکہ، یثرب، العلا (وادی القریٰ)، تبوک، ایلہ (ایلات) اور پیٹرا (بترا) سے ہو کر شام کو جاتی تھی اور پیٹرا سے ایک تجارتی راستہ مصر کو نکلتا تھا۔
آل سبا میں بنو حمیر کی تاریخ 100 ق م کے لگ بھگ شروع ہوتی ہے۔ حمیری سلاطین کا لقب ’’ملک سبا و ذو ریدان‘‘ تھا۔ ان ذو (امراء) کا پایہ تخت ظفار تھا جس کے آثار صنعاء کے جنوب میں یریم شہر کے قریب ملتے ہیں۔ حمیری بادشاہ ظفار کے متصل قلعہ ریدان میں رہتے تھے۔ اسی دور میں حمیری علاقے کے لئے پہلی بار ’’یمنت‘‘ اور ’’یمنات‘‘ کا استعمال شروع ہوا اور رفتہ رفتہ اس پورے خطے کا نام یمن ہو گیا جو عسیر سے عدن اور باب المندب سے حضرموت تک واقع ہے۔ حمیری بادشاہ تبع حارث الرائش (280ء تا 315ء) نے اکسومی حبشیوں کو حضرموت سے نکال باہر کیا اور وہ ’’ملک سبا و ذو ریدان و حضرموت‘‘ کہلایا۔ حمیری سلاطین کے اس دوسرے طبقے کو عرب مورخین تبع (جمع تبابعہ) کہتے ہیں۔ حبشی زبان میں تبع کے معنی ہیں ’’زبردست اور صاحب قوت‘‘۔
تبع اسعد ابی کرب بن کلیکرب یثرب سے گزرا تو اس کے ہمراہ 400یہودی علماء تھے۔ انہوں نے یثرب ہی میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ آخری اور عظیم ترین نبی جن کا نام احمد اور محمد(ﷺ) ہو گا، ہجرت کر کے اس شہر میں آئیں گے۔ تبع نے ان سب کے لئے وہاں گھر بار بنا دیئے۔ پھر ایک مکتوب لکھا جس میں اپنے قبول اسلام کا ذکر کر کے اس پر سونے کی مہر لگائی اور سب سے بڑے عالم کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس نبی کا زمانہ پائے تو انہیں خط دے دے اور اگر نہ پائے تو اس کے بیٹے یا پوتے یہ کام انجام دیں۔ اس نے نبیؐ کے لئے ایک مکان تعمیر کیا تاکہ آپ جب یثرب تشریف لائیں تو اس میں قیام فرمائیں۔ خط میں تبع نے ایک شعر لکھا تھا جس کا ترجمہ ہے: ’’میں احمدﷺ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ خالق کائنات کی طرف سے رسول ہیں، اگر میں نے ان کا زمانہ پایا تو میں ان کا معاون اور قرابت دار ہوں گا‘‘۔ وقت گزرنے پر اس مکان کے مالک ابوایوب انصاریؓ بنے جو اسی عالم کی اولاد میں سے تھے۔
یہ ایمان افروز واقعہ علامہ سمہودی نے وفاء الوفاء میں لکھا ہے۔
525ء میں قیصر روم نے اپنے باجگذار شاہ حبش کو یمن پر حملے کے لئے اکسایا، چنانچہ رومی بحری بیڑے پر اریاط کے زیر قیادت 70 ہزار حبشی فوج یمن پر حملہ آور ہوئی اور اس پر قبضہ کر لیا۔ اریاط کچھ عرصہ یمن میں شاہ حبش کی طرف سے گورنر رہا، پھر اس کی فوج کے ایک کمانڈر ابرہہ الاشرم (ابرہہ نکٹا) نے اسے قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ابرہہ نے دارالحکومت صنعاء میں ایک کلیسیا (گرجا) بنایا اور اہل عرب کو اس کے طواف پر آمادہ کرنے کے لئے اس نے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی نیت سے مکہ پر چڑھائی کی مگر طائف اور مکہ کے درمیان مغمس کے مقام پر اس کا لشکر ہاتھیوں سمیت اللہ تعالیٰ نے سنگ بردار پرندوں سے تباہ کروا دیا۔ ابرہہ ہلاک ہو گیا اور ان اصحاب الفیل کی بربادی کی نسبت سے اس سال کو عام الفیل کہا گیا۔ اسی سال آخری نبی حضرت محمدﷺ مکہ میں پیدا ہوئے۔ ابرہہ کے زمانے ہی میں 542ء اور 570ء کے درمیان سدمأرب (مأرب ڈیم) تباہ ہوا۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers