Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Sunday, March 29, 2015

محسن فارانی کا خصوصی کالم ’’ابو غُرَیب کے جرائم مجھے معاف نہیں کر سکتے‘‘


ایرک فیئر نامی امریکی فوجی قاتل امریکہ کی ’’لی ہائی یونیورسٹی‘‘ میں گزشتہ سال طلبہ کو تخلیقی انشا پردازی (Creative Writing) پر درس دیتا رہا ہے۔ اس نے عراق میں ابوغریب جیل کے بے کس قیدیوں پر جو شرمناک مظالم ڈھائے تھے، ان پر اس کے نفس لوامہ نے لعن طعن کی ہے تو وہ بول اٹھا ہے۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے ایک مضمون میں وہ لکھتا ہے: ’’میں ایک فوجی، ایک پولیس افسر اور ایک تفتیش کار رہا ہوں، اور اب جو طلبہ مجھے ’’پروفیسر‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور میں انہیں ہوم ورک دیتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میری ذمہ داری کس قدر بدل گئی ہے، لیکن یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے کورس کا عنوان Writing War (جنگی انشا پردازی) ہے جس نے مجھے ان تلخ یادوں کے حصار سے نکلنے نہیں دیا جو ایک دہائی سے میرے ذہن میں بار بار امنڈ کر آتی ہیں۔ میں ’’لی ہائی‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے یہ کورس پڑھانے کا موقع دیا ہے۔ کلاس میں جنگ کے بارے میں پڑھاتے ہوئے روزانہ میرے ذہن میں یہ بات آتی رہی کہ میں کوئی کالج کا پروفیسر نہیں بلکہ میں ابو غریب (بغداد) میں ایک تفتیش کار تھا۔ میں قیدیوں کو ٹارچر کیا کرتا (اذیتیں دیتا) تھا۔‘‘ (ابو غریب اور باگرام کے علاوہ امریکیوں نے 119مسلم قیدی دنیا کے مختلف خفیہ بندی خانوں میں رکھ کر ٹارچر کیے جن میں سے 26بالکل بے گناہ تھے، ان کے علاوہ تین چار ہزار جو ڈرون حملوں میں شہید کر دیئے گئے، کیا ظالم بش اینڈ کمپنی ان کا حساب دے گی؟)
ایرک فیئر مزید لکھتا ہے: ’’ابوغریب ہر دن، ہر منٹ میرے ذہن پر حاوی رہتا ہے۔ 2004ء کے اوائل میں ابوغریب کے اندر کارکن دیواروں پر زرد رنگ کا پینٹ کر رہے تھے تاکہ صدام حسین کی سرگرمیوں کی تصاویر (میورلز) چھپ جائیں۔ میں اتفاقاً ایک دیوار کے پاس جھکا تو میری سیاہ اونی جیکٹ پر رنگ و روغن کے دھبے لگ گئے جو آج بھی مدھم سے موجود ہیں اور آج بھی میں ان (ستم رسیدوں) کی آوازیں سنتا ہوں اور ان کی شکلیں میرے ذہن میں در آتی ہیں جنہیں ہم محبوسین (detainees) کہتے تھے۔‘‘
میں نے طلبہ سے ابوغریب جیل میں عراقی قیدیوں سے (شرمناک) بدسلوکی کی تصویروں پر ان کے تاثرات جاننے چاہے جو 2004ء میں منظر عام پر آئی تھیں۔ بیشتر مجھ سے آنکھیں نہیں ملا رہے تھے جیسے انہوں نے وہ تصویریں دیکھ کر گناہ کیا ہو۔ ان کے خالی چہرے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ شاید ابوغریب کی یادیں ذہنوں سے محو ہو جائیں اور میری زیادتیاں بھلا دی جائیں گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں انہیں بھلانا چاہوں بھی تو بھلا نہیں سکتا۔‘‘
’’میں نے اخبارات میں مضامین شائع کئے ہیں جن میں عراقی قیدیوں سے روا رکھے گئے ہمارے بدترین برتاؤ کی تفصیل دی ہے۔ میں نے ٹی وی اور ریڈیو پر انٹرویو دیئے ہیں۔ میں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے گروپوں سے گفتگو کی ہے اور محکمہ انصاف کے ایک وکیل اور فوج کی کریمنل انویسٹی گیشن کمانڈ کے دو ایجنٹوں کو ہر بات صاف صاف بتا دی ہے۔ جو کہنے کی تھی، ہر بات میں نے کہہ دی ہے۔ اپنی کلاس کے سامنے کھڑے ہو کر جی چاہا کہ میں تاریخ کی تکلیف دہ سچائیوں کو پس پشت ڈال دوں اور ابوغریب میں اپنے تفتیش کار ہونے کا ذکر نہ کروں۔ میں لی ہائی یونیورسٹی کا ایک پروفیسر اور طلبہ کو گریڈ دینے پر مامور تھا۔ میں ایسی باتیں کہہ سکتا تھا جن پر میرا بیٹا سکول بس میں اپنے دوستوں کے سامنے فخریہ گفتگو کرتا مگر میں ایسا نہ کر سکا کیونکہ میں ابوغریب میں قیدیوں کو ٹارچر کیا کرتا تھا۔‘‘
’’آخرکار میں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ابوغریب کی تصویروں کا مشاہدہ کر کے تخلیقی مضمون لکھیں۔ ہم ابوغریب میں کی گئی بدسلوکیوں پر گفتگو کرتے رہے، حتیٰ کہ میں نے بعض اپنی تحریروں کی وضاحت بھی کی۔ وہ پھر مجھے ’’پروفیسر‘‘ کہتے رہے لیکن مجھے شبہ ہے کہ اب وہ دل سے مجھے پروفیسر نہیں سمجھتے تھے۔ اب امریکی سینیٹ نے ابوغریب کی ٹارچر رپورٹ جاری کر دی ہے۔ بہت لوگوں کو اس کے مندرجات پر حیرت ہوئی ہے۔ اس میں واٹر بورڈنگ کی تفصیل ہے (بدبخت امریکی فوجی مسلم قیدیوں کو تختے پر اس طرح لٹا کر پائپ سے ان کے منہ میں پانی ڈالتے تھے کہ سر پاؤں سے نیچے رہے) اور بتایا گیا ہے کہ واٹر بورڈنگ اس تعداد سے کہیں زیادہ مرتبہ کی گئی جو پہلے میڈیا میں رپورٹ ہوئی تھی۔ ہفتہ بھر قیدیوں کو سونے نہیں دیا جاتا تھا، اور انہیں ریکٹل ری ہائیڈریشن (مقعدکے راستے جسم میں پانی داخل کرنا) کے ہولناک اور توہین آمیز عمل سے گزارا جاتا تھا۔ ظالمانہ برتاؤ کی ابھی مزید تفصیل باقی ہے جو کبھی رپورٹ ہو گی۔
مستقبل کے کسی کلاس روم میں ایک پروفیسر اپنے طلبہ سے کہے گی کہ ان کرتوتوں کے بارے میں پڑھیں جو اس ملک نے 21ویں صدی کے اوائل میں کئے۔ وہ سینیٹ ٹارچر رپورٹ کے اقتباسات اسائنمنٹ میں شامل کرنے کو کہے گی۔ طلبہ خالی نظروں اور جماہیوں سے اس پر ردعمل ظاہر کریں گے اور وہ جان لیں گے کہ یہ ملک ہمیشہ قابل فخر نہیں رہا۔‘‘
AFPکا صحافی جیروم کارٹیلیئر لکھتا ہے: ’’سینیٹر جان مکین نے اوباما کے مقابلے میں صدارتی الیکشن لڑا تھا۔ وہ اب 78سالہ بوڑھا ہے اور جوانی میں ویت نامیوں کی قید میں اسے ٹارچر کے تلخ تجربے سے گزرنا پڑا تھا۔ اسی لئے اس نے عراقی قیدیوں پر ٹارچر کی شدید مذمت کی ہے۔ اس نے کہا ہے: ’’امریکہ کو اپنے کرتوتوں کا جواب دینا ہو گا جو اس نے ستمبر 2001ء میں اپنے شہروں پر حملوں کے بعد روا رکھے۔ آخر ان کا مقصد کیا تھا؟ کیا ہم محفوظ تر ہوئے ہیں یا غیر محفوظ؟ ہمیں کیا حاصل ہوا اور اس کی کیا قیمت ادا کی؟ سچائی بعض اوقات کڑوی گولی بن جاتی ہے جسے نگلنا مشکل ہوتا ہے مگر ہمیں یہ نگلنی ہو گی۔‘‘
بدمعاش امریکی فوجی نہ صرف بے کس قیدیوں کو نیند سے محروم رکھتے تھے، مقعد کے راستے جبراً خوراک ان کے جسم میں داخل کرتے تھے اور انہیں واٹر بورڈنگ کے اذیت ناک عمل سے گزارتے تھے بلکہ برقی برمے سے ان کا جسم چھیدنے کی اداکاری کر کے ڈراتے تھے اور قیدی کو دھمکی دیتے تھے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری ماں کی آبرو ریزی کریں گے۔ لعنت ہے ان خبیث امریکیوں پر! امریکی بدمعاشوں نے امریکی سرزمین سے دور 100 قیدی خفیہ بندی خانوں میں رکھے ہوئے تھے، مثلاً مراکش ، رومانیہ، تھائی لینڈ، پولینڈ میں۔ بش کی جماعت ری پبلیکن کے بیشتر سینیٹر سی آئی اے کے وحشیانہ مظالم کی رپورٹ جاری کرنے کے خلاف تھے۔ سینیٹر سیکسبی چیمبلس نے تو رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’پرانے زخم کھولنے‘‘ کے مترادف قرار دیا۔ اس ملعون امریکی نے کہا کہ ’’ہمارے اردگرد دنیا جل رہی ہے جبکہ ایک کمیشن نے پانچ برس ایک متروک پروگرام کے مطالعے پر اڑا دیئے۔‘‘
صلیبی امریکیو! تمہارے گورے چہروں پر تاریخ نے جو سیاہی مل دی ہے وہ مٹ نہیں سکتی۔ غنیمت ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکی حکام کے جرائم پر ان کے خلاف مقدمات چلانے پر زور دیا ہے لیکن امریکی ’’محکمہ انصاف‘‘ نے ایسی کارروائی مسترد کر دی ہے۔
بعض ری پبلیکن سینیٹرز کے بقول ’’ملک کے لئے ٹارچر بذاتِ خود نقصان دہ نہیں بلکہ ٹارچر کی خبریں دینا نقصان دہ ہے۔‘‘ ادھر سابق NSA (نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن (مقیم روس) کے انکشافات اور امریکی انٹرنیٹ فون جاسوسی اور ڈرون حملوں پر دنیا بھر میں لے دے ہو رہی ہے۔ جہنمیوں پر لعنت!

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers