Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Sunday, March 29, 2015

حیات عبداللہ کا خصوصی کالم " دہشت گردوں کی پھانسی پر پوپ فرانسس کی بے قراری"


دلبری اور دل نوازی کایہ سلسلہ اب تمام ہو جانا چاہئے۔ احتیاط، مجبوری، عالمی برادری اور امریکی پسندو ناپسند کی مصلحت خیزی کے چنگل سے اب بھی باہر تشریف نہ لائے تو تاریک گوشوں میں دھکیل دیئے جاؤ گے۔ دنیا کو یہ باور کرانا خودی اور وقار کابانکپن ہے کہ دراصل ہم دہشت گردی کسے سمجھتے ہیں اور امریکا و بھارت کے نزدیک دہشت گردی کے زخم سہتے سہتے اب تو پور پور اور انگ انگ سے ٹیسیں اٹھنے لگی ہیں مگر امریکا و بھارت اسے دہشت گردی سمجھتے ہی نہیں، پھر کیوں ہم امریکا و بھارت کی معیت میں دہشت گردی کے خلاف نعرہ زن ہیں۔ ذرا توقف کیجئے، آنکھیں کھولیے اور کانوں پر سے ہاتھ ہٹا کر غور تو کیجئے کہ ہم جس دہشت گردی کا شکار ہیں، یہ درحقیقت امریکا اور بھارت ہی کی پیداوار ہے۔ انہوں نے اس کے بیج بوئے ہیں، ہم پاکستان میں بم دھماکوں کو دہشت گردی کہتے ہیں، ہم اپنے جان سے بھی پیارے ملک میں آگ اور بارود جھونکنے والوں کو دہشت گرد کہتے ہیں، جبکہ امریکہ اور اس کے یمین و یسار اس کو محض دہشت گردی کہتے ہیں، سمجھتے نہیں ہیں۔
امریکا دراصل افغانستان میں ناٹو فورسز کے خلاف جنگ اور بھارت، مقبوضہ کشمیر میں جنگ آزادی کو دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے۔ اب اس دبی دبی، گھٹی گھٹی، مدھم اور دھند آلود پالیسی کو صاف اور واشگاف بنا کر دنیاکے سامنے واضح کر دیجئے کہ افغانستان اور مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو ہم قطعاً دہشت گردی نہیں گردانتے، ہم تو اسلام اور پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا رہا ہے، مگر اس سے اقوام متحدہ اور اس کے سائے میں پلنے والے ممالک کو سخت کوفت اور اذیت ہو رہی ہے، یہی نہیں بلکہ رومن کیتھولک کا روحانی پیشوا پوپ فرانسس بھی بھنا بیٹھا ہے اس نے سزائے موت کے خلاف کام کرنے والے ایک کمیشن کے ارکان سے ملاقات کی، اس کے لفظ لفظ پر غور کیجئے کہ ’’دور حاضر میں سزائے موت قابل قبول نہیں، قطع نظر اس کے کہ جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، موت کی انتہائی سزا دینا زندگی کی پاکیزگی اور انسانی وقار کے خلاف ایک حملہ ہے۔‘‘
زندگی کا حسن و جمال تار تار کرنے والے اور چہارسو موت کے مہیب سناٹے بانٹنے والے دہشت گردوں کو موت کی سزا دینا انسانی وقار کے منافی کیوں کر ہے؟ معاشرے کے تمام افراد کی زندگیوں کے لئے غلاظت بنے ان ناسوروں کو سزا دینا زندگی کی پاکیزگی کے خلاف کیسے ہو چکا؟ انسانی توقیر اور منزلت کو بارود کی آگ میں بھسم کرنے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانا انسانی وقار کے خلاف کیوں کر ٹھہر چکا ہے؟ جس اقوام متحدہ کی چھتری تلے بیٹھ کر مسلمان ملکوں پر چڑھائی کرنے کے بعد لاکھوں مسلمانوں میں موت اس بھیانک انداز میں بانٹی گئی جس کے تصور سے ہی انسانیت کانپ اٹھتی ہے، اس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے پیٹ میں بھی سزائے موت کے خلاف بڑی گڑ بڑ مچی ہوئی ہے۔ وہ فرمان جاری کرتا ہے کہ ’’اکیسویں صدی میں پھانسی کی کوئی گنجائش موجود نہیں، دنیا میں اب سزائے موت دیئے جانے کا رجحان ختم ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے 160 سے زائد رکن ممالک میں مختلف طرح کے قوانین، رسم و رواج اور مذہبی رجحان پائے جاتے ہیں۔ یا تو انہوں نے موت کی سزا دینا ختم کر دی ہے یا پھر پھانسیوں پر عمل روک دیا ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کوئی تو یہ بھی پوچھے کہ اسی اقوام متحدہ کے اسلحہ انسپکٹر ہینز بلکس نے عراق کا چپہ چپہ چھان مارا تھا۔ اس نے صدام حسین کے صدارتی محل تک کی تلاشی لے کر یہ رپورٹ دی تھی کہ عراق کے پاس کوئی خطرناک اسلحہ موجود نہیں مگر پھر بھی لاکھوں عراقیوں کو آگ اور بارود میں جھلسا کر ان پر موت مسلط کر دی گئی تھی، کیا اکیسویں صدی میں اس حیوانیت اور وحشی پن کی گنجائش موجود ہے؟ کیا انسانی وقار اور ملکی سالمیت کی دھجیاں اڑا دینے سے اکیسویں صدی کی جدید تہذیب متاثر نہیں ہوتی؟ کیا اکیسویں صدی میں دو مسلمان ملکوں پر چڑھائی کر کے ان پر کارپٹ بمباری کرنے کی اجازت ہے؟ کیا اکیسویں صدی میں چھوٹے چھوٹے بچوں پر ڈیزی کٹر بموں کے ساتھ یلغار کر کے ان کے نازک جسموں کو چیتھڑوں کی طرح لیر و لیر کر دینا انسانی وقار سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا اکیسویں صدی میں مسلمان عورتوں کی منڈیاں لگا دینا قابل قبول ہے؟ کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر بہیمانہ ظلم کرنے سے اکیسویں صدی کے تقاضوں پر کوئی آنچ نہیں آتی؟ اس وقت بھی اکیسویں صدی کے حسن و جمال پر کوئی داغ نہ لگا جب صدام حسین کو پھانسی دی جا رہی تھی، اس وقت بھی اکیسویں صدی کی رعنائی ماند نہ پڑی جب ایمل کانسی کو زہر کا انجکشن لگا کر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا تھا۔
کیا اجمل قصاب انسان نہ تھا، اگر تھا تو اس کو موت کی سزا دیتے وقت اقوام متحدہ کے دل میں انسانیت کا سوز کیوں نہ پیدا ہوا؟ اس وقت اکیسویں صدی کے اجلے پن پر بدنما چھینٹے کیوں نہ پڑے جب ستمبر 2010ء میں امریکی ریاست ورجینیا کی 41 سالہ ٹیریسا لوئیس نامی عورت کو اپنے خاوند کو قتل کرنے کی سازش کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی، اس نے اپنے شوہر کو قتل نہیں کیا، محض سازش کی تھی، اس نے قاتلوں کو اسلحہ دیا اور اپنے گھر کے دروازے کھلے چھوڑ دیئے تھے، محض اس جرم کی پاداش میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹیریسا کو سزائے موت دی، اسے مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اس وقت انسانی وقار پر اتنا پیار کیوں نہ آیا جب امریکہ میں 1973ء سے لے کر 30 جون 2008ء تک 8118 مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی جن میں سے 1168 لوگوں کو موت کے منہ میں جھونک دیا گیا۔
پاکستان میں دہشت گردوں کو پھانسی دیئے جانے پر ان کے دل یک دم کیوں پھڑک اٹھے ہیں؟ جب دہشت گرد کسی بھی ملک اور قوم کے لئے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں تو ان کی سزائے موت میں اقوام متحدہ اور امریکہ کیوں رخنے حائل کرتے ہیں؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ملک میں دہشت گردوں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لئے وہ انسانی وقار اور اکیسویں کے آداب اور قرینوں کی بات کرنے لگے ہیں، کیا اس صدی میں مقتولوں اور مظلوموں کے بھی کچھ حقوق ہیں یا نہیں؟ مجرموں کو سزائے موت بھارت اور امریکا میں بھی دی جاتی رہی ہے۔ یہ بات سمجھنا چنداں دشوار نہیں کہ دہشت گردوں کی محبت اسی شخص کے دل میں ہو گی جو خود دہشت گرد ہو گا یا دہشت گردوں کو پالتا پوستا ہو گا۔ امریکا، بھارت اور پاکستان متضاد راہوں کے راہی ہیں، اسلام، پاکستان اور مسلمان کے لئے منافرت و منافقت اہل کفر کا وتیرہ ہے جو دہشت گردی کا اصل محرک ہے ہم اپنے ایمان اور پاکستان کی طرف ٹیڑھی نظروں سے دیکھنے کو بھی غداری اور دہشت گردی سے کم کچھ بھی نہیں سمجھتے۔

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers