Sovereign Pakistan

Islam,News,Technology,Free tips and tricks,History,Islamic videos,Pakistan's prosperity, integrity,sovereignty,

Image result for Earn Online 728x90

Monday, March 30, 2015

اقوامِ متحدہ نے 4سال بعدبحرہند میں پاکستان کا’’ملکی سمندر ی حدودمیں وسعت‘‘کا دعویٰ تسلیم کرلیا،



اسلام آباد (نیوز رپورٹ )اقوامِ متحدہ نے 4سال بعدبحرہند میں پاکستان کا’’ملکی سمندر ی حدودمیں وسعت‘‘کا دعویٰ تسلیم کرلیا، بحیرۂ عرب میں مزید 50 ہزار مربع کلومیٹر حصہ پاکستان کے زیر انتظام آگیا، پاکستانی جائزے پر مزید285مربع کلومیٹر حصہ بھی دیا گیا،ملکی سمندری حدود2لاکھ90ہزار مربع کلومیٹر تک وسیع ہو گئیں ،پاکستان بحری وسعت حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا،بھارتی سازشیں ناکام اوردہلی سرکار منہ تکتی رہ گئی ، بھارت کا اپنی سمندری حدود میں وسعت کا خواب بھی پورا نہ ہوسکا، اقوام متحدہ میں عمان نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی،پا کستان نے سمندری حدود کی بیرونی حد کی نئی تعریف بھی متعارف کرائی ،تاریخ میں پہلی مرتبہ 50 کروڑ روپے کے اِس منصوبے میں سے کچھ رقم بچا لی گئی ، منصوبے میں پاک بحریہ اور قومی ادارہ بحر (این آئی او) کی5رکنی ٹیم نے کلیدی کردار ادا کیاجبکہ وزارت خارجہ ، دفاع ،قانون وانصاف وانسانی حقوق نے مثالی تعاون پیش کیا۔ روزنامہ دنیا کو دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے 03۔ 2002ء میں ’’ملکی سمندر ی حدودمیں وسعت‘‘کے منصوبے کا آغاز کیا، منصوبہ 2005ء میں این آئی او اورپاک بحریہ نے عملی طور پر شروع کیا۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے 30اپریل 2009ء کو اضافی سمندری حدود یا کونٹی نینٹل شیلف کے مزید حصے کے حصول کیلئے اپنا دعویٰ دائر کیا تھا ، اقوام متحدہ کے 32ویں کمیشن برائے سمندری حدود (یو این سی ایل سی ایس)نے غوروخوض کیلئے منظور کیا ، 16اگست 2013ء کو پاکستانی وفد نے ہائیڈرو گرافی، جیوفزکس، جیالوجی اور دِیگر متعلقہ شعبہ جات کے 21 ماہرین پر مشتمل اقوام متحدہ کمیشن کے سامنے مزید سمندری حدود کے حصول کی پاکستانی کوششوں پر تفصیلی جائزہ ، سائنسی اعدادوشمار اور معلومات پیش کیں اور مطالبہ کیا کہ پاکستان کو 200ناٹیکل میل سے آگے مزید 150ناٹیکل میل یا 50ہزار مربع کلومیٹر حدود فراہم کی جائیں۔
پاکستان کی فراہم کردہ معلومات اور اعدادوشمار کی جانچ پڑتال کیلئے اقوام متحدہ کمیشن برائے سمندری حدود نے آرٹیکل 76کے تحت اورسائنسی وتکنیکی بنیادوں پر معاملہ ذیلی کمیشن کے سپرد کردیا ، ذیلی کمیشن نے 10منفی اعتراضات اْٹھائے جس پرپاکستانی وفد نے جوابات دیئے اور دستاویزات فراہم کیں ،کینیڈا کی کمپنی میسرز سی فورتھ نے پاکستانی فراہم کردہ ڈیٹا ، معلومات اور سائنسی تحقیق کو تکنیکی بنیادوں پر جانچا، اِس دوران بھارت نے کئی بار پاکستانی مطالبے پر اعتراضات اْٹھائے اور اپنی مضبوط لابی استعمال کی لیکن بھارت کوناکامی کامنہ دیکھناپڑا، پاکستانی وفد میں شامل پاک بحریہ کے جج ایڈووکیٹ جنرل کموڈور ظفر منصور ٹیپو ستارہ امتیاز ملٹری)اورہائیڈروگرافر کموڈور محمد ارشد،اِس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، معروف جیالوجسٹ اور ڈائریکٹر جنرل این آئی اوڈاکٹر آصف انعام ، ڈپٹی ہائیڈرالوجسٹ اور جیو ڈیسسٹ کمانڈر سلمان خان ،جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس )، ڈیٹا منیجرسید محسن تبریز اور جیو فزسٹ خالد محمود نے 10سال تحقیق اوراقوام متحدہ میں 4سال تک پاکستانی مقدمہ انتہائی محنت کے ساتھ لڑاجس کے بعد پاکستان کا حق تسلیم کرالیاجبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سابق سفیر مسعود خان اورموجودہ سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بھی رواں ماہ 10مارچ کو اقوام متحدہ کمیشن کے سامنے پاکستانی مقدمہ خوب لڑا۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان کے موجودہ2لاکھ 40ہزار مربع کلومیٹر خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) کے علاوہ پچاس ہزار مربع کِلو میٹر کا اِضافی کونٹی نینٹل شیلف (Continental Shelf) پاکستان کے زیرِ انتظام آ گیا ہے ، یوں پاکستان اِضافی سمندری حدود کی تہ میں تیل و گیس سمیت موجود ذخائراورقدرتی وسائل پرمکمل اِختیارکا حامل ہوگیا ہے ، ڈائریکٹر جنرل این آئی او نے تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ملکی سمندر ی حدودمیں وسعت کامنصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاک بحریہ کے ترجمان کموڈور ندیم بخاری نے روزنامہ دنیا کیساتھ خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کو اللہ نے بڑی نعمت سے نوازا ہے ، اقوام متحدہ کی جانب سے 50ہزار مربع کلومیٹر کے پاکستانی دعویٰ کو تسلیم کیا جانا پاکستان کا امتیاز ہے ،کچھ نادیدہ قوتیں پاکستان کی کاوشوں کو ہمہ وقت سبوتاڑ کرنے کیلئے کوشاں تھیں تاہم اْن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے اور پاکستان سرخرو ہوا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان میں وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہاکہ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستانی دعویٰ اتفاق رائے سے تسلیم کرنا بڑی کامیابی ہے ، قانون سمندرپراقوام متحدہ کنونشن کے تحت پاکستان کو زائد سمندری حدود میسر آنے سے سماجی واقتصادی ترقی میں بے پناہ مدد ملے گی۔
سمندری حدود
لاہور (نیوز رپورٹ) پاکستان کی سمندری حدود میں 50ہزار مربع کلومیٹر اضافہ ہونے سے ملک میں 7سے 8 ارب کا سالانہ تیل حاصل کیا جاسکے گا جبکہ اس وقت ملک میں تیل کی سالانہ (باقی صفحہ 3بقیہ نمبر3)
20 ارب روپے کی کھپت میں سے پاکستان صرف 2 ارب سالانہ کا تیل خود پیدا کررہا ہے۔ جس سمندری علاقے میں وسعت ہوئی ہے اس سے پاکستان کو مچھلی، جڑی بوٹیاں اور معدنیات کے ذخائر وافر مقدار میں دستیاب ہوں گے جبکہ سمندری تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔گوادر پورٹ کے مکمل طور پر آپریشنل ہونے پر بحری جہازوں کے لئے آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی اور سمندری تجارت میں بھی اضافہ ممکن ہوسکے گا اور جو ماہی گیر مچھلی کی تلاش میں بھارتی حدود میں چلے جایا کرتے تھے، انہیں اب اپنی حدود میں ہی مچھلی کی بہت بڑی تعداد مل سکے گی۔ ماہرین نے پاکستان کو معدنیات کی مد میں کروڑوں روپے کی آمدنی کا بھی تخمینہ لگایا ہے۔
سمندری حدود

No comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Fashion

Popular Posts

Beauty

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.

Google+ Badge

Travel

Followers