فیصل ندیم کا خصوصی کالم "تحفظ ناموس رسالت اورہماری ذمہ داری"


پیرس میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں لوگوں کا اکٹھ ہوا عام لوگوں کے علاوہ تقریباً 45 ملکوں کے سربراہان بھی اس اکٹھ کا حصہ تھے یہ لوگ ایک فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوئے تھے وہ چارلی ہیبڈو جو پہلے 2009 اور پھر 2012 میں اس کائنات کی عظیم ترین ہستی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت جیسے جرم عظیم کا ارتکاب کر چکا تھا اور شاید جرم کی سنگینی ہی وجہ تھی کہ 2 نوجوان اٹھے اور چارلی ہیبڈو کے چار کارٹونسٹوں سمیت 12 افراد کو گولیوں سے چھلنی کرگئے اب چاہئے تو یہ تھا کہ دنیا بھر میں صبروبرداشت کی تلقین کرنے والی عالمی طاقتوں کے سربراہان اس واقعہ کی سنگینی کے پیش نظر سر جوڑ کر بیٹھتے ، مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لئے وجوہات پر غور کیا جاتا ، ان کے سدباب کی کوششیں کی جاتیں ، ایسی قانون سازی پر زور دیا جاتا جس کے ذریعہ دنیا بھر کی مقدس ترین ہستیوں پر کیچڑ اچھالنے والے شرپسندوں کو روکا جاسکے لیکن بڑا ہی حیرت انگیز منظر تھا اتنے لوگ ایک ہی بات کئے جارہے تھے وہی بات کہ جس میں انتشار تھا افتراق تھا شدت پسندی اور دہشتگردی تھی ہم اظہار رائے کی آزادی کا حق نہیں چھوڑیں گے حیرت ہے صد حیرت لاکھوں میں سے کوئی ایک باشعور نہیں تھا کہ انہیں نہیں سمجھا سکا ماضی کا کوئی آئینہ نہیں دکھلا سکا پہلے کب ایسا ہوا تھا کہ مقدس ترین ہستیوں پر کیچڑ اچھالا گیا ہو اور امن بھی باقی رہا ہو یہ اظہار رائے کی نہیں فساد فی لارض پھیلانے کی آزادی کی مانگ تھی۔ ہسپتالوں ، اسکولوں ، بازاروں اور مکانوں پر بے دریغ بارود برسا کر ہزاروں مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو خاک اور خون میں نہلا دینے والوں سے اور کس بات کی امید کی جاسکتی تھی اس موقع پر اعلان کیا گیا چارلی ہیبڈو کی مکمل حمایت کی جائے گی۔ اگلا شمارہ مزید اہتمام کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔ ہزاروں کے بجائے لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے اس شمارہ میں ایک بار پھر گستاخی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا جائے گا اور پھر یہ کردیا گیا یہ سب کیا ہے؟ کیا اب بھی مغرب کے گن گانے والے نام نہاد مسلمانوں کے پاس کوئی توجیہہ کوئی بہانہ موجود ہے جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ کسی انفرادی شخص یا ادارہ کا فعل ہے مغرب کی روشن سماجی اقدار کا ڈھنڈورا پیٹتا کوئی نام نہاد دانشور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر حرمت پر اس رقیق اور غلیظ حملے کو مغرب کی اجتماعی دہشتگردی اور اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات اقدس پر اجتماعی حملہ کو کوئی اور نام دینے کی جرآت کرسکتا ہے نہیں، ہرگز نہیں۔ اس عظیم خباثت کے عملی مظاہرے کے بعد ضروری ہے کہ امت مسلمہ مجموعی طور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی وضاحت کرے کیا رب کائنات نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت آپ کی حرمت آپ کی عزت کو بندہ مومن کے مال و جان ، آل اولاد سے زیادہ قیمتی قرار نہیں دیا۔ کیا مومن کے ایمان کا پیمانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے معیار پر قائم نہیں ہوتا ہاں ضروری ہے بہت ضروری میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن حرمت کی طرف بڑھتے کافروں کو روکنا بہت ضروری ہے شیطان کے ان پیروکاروں کو یہ بتا دینا کہ معاملہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا ہو تو پھر مسلمان کے لئے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے آگے ہر چیز ہیچ ہے مال بھی جان بھی اور اولادیں رشتہ داریاں بھی۔ آئیے باور کروادیں یہ کفر کو کہ تم چالیس لاکھ جمع ہوتے ہو یا چالیس کروڑ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہمیں پرواہ ہے تو صرف اپنے نبی سے تعلق کی اپنے نبی کی محبت کی اور اس کائنات کی سب سے زیادہ عزت والی شخصیت ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘کی حرمت کے تحفظ کی حرمت ﷺ کے اس عظیم مشن میں شمع رسالت کے پروانوں کے پاس لٹانے کے لئے جانیں بھی بہت ہیں تو کٹوانے کے لئے گردنیں بھی بہت۔ آئیے عزم کریں اپنے عہد کی پاسداری کا اور ارادہ کریں محمد اور رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا دعا ہے اللہ ہمیں وفادران محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں شمار کرتے ہوئے اس عظیم مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
( آمین یا رب العالمین)

Post a Comment

0 Comments