Sovereign Pakistan

Proud to be a Muslim,Pakistani,News,Top Stories,Talk Shows,Best Columns,History of Pakistan,Patriotic Ism,Unity,Integrity of Pakistan.Samiullah Malik London,Javed Chaudhry, Talhat Hussain, Orya Maqbool Jaan,Harron ur Rashed,Urdu columns and articles are compiled from leading Urdu newspapers and magazines.Live News and Sports Channels Like Dunya News,Aaj News,Samaa News,CNN,Waqat News,FM100 Radio.

Thursday, February 16, 2012

اصلی اور نقلی مسلمان




اصلی اور نقلی مسلمان 
تم تین سو سال سے مسلمانوں کی قسمیں گن رہے ہو لیکن آج تک اصلی اور نقلی، سچے اور جھوٹے کا فیصلہ نہیں ہو سکا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دوسروں کو اسلام کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے بلکہ تم میں سے ہر ایک اپنے لیے علیحدہ علیحدہ کسوٹیاں بنا رکھی ہیں اور ان کسوٹیوں پر تمہاری اپنی ذات کے سوا کوئی پورا نہیں اترتا۔ 
میرے عزیزو! ہو سکتا ہے کہ میں ایک کم علم آدمی ہونے کی صورت میں تمہاری طرح نہ سوچ سکوں۔ خیالات کے پر لگا کر تمہارے ساتھ بلند فضاؤں میں پرواز نہ کر سکوں اور دوسروں کا ایمان پرکھنے کے لیے جو کسوٹی تم نے بنائی ہے، میں شاید اس پر پورا نہ اتر سکوں اور میری طرح اور بھی لاکھوں مسلمان شاید اس کسوٹی پر پورے نہ اتر سکیں۔ لیکن اگر تم خوارزم کے کسی میدان میں میرے ہم رکاب ہوتے اور وہاں یہ سوال کرتے کہ میں کس قسم کا مسلمان ہوں تو میں تمہیں جواب دیتا کہ سامنے چند قدم پر مومن کے ایمان کی کسوٹی موجود ہے۔ اگر میں کفار کے تیروں کی بارش میں مسکرا سکوں، ان کی تلواروں کے سائے میں کلمہ پڑھ سکوں، اگر موت کا ہاتھ شہ رگ کے قریب دیکھ کر میرے پاؤں متزلزل نہ ہوں تو سمجھ لینا کہ میں مسلمان ہوں۔ اگر میرا جسم کفار کے گھوڑوں کے پاؤں تلے روندا جا رہا ہو اور میرے سکرات الموت میں بھی میرے منہ سے یہ دعا نکل رہی ہو کہ یا اللہ! اپنے محبوب کی امت کا جھنڈا بلند رکھیو تو سمجھ لینا کہ میں ایک مسلمان ہوں۔
میرے بھائی! برا نہ ماننا، مومن کے ایمان کی کسوٹی وہ نہیں جسے تم ہر روز بغداد کے چوراہوں میں رکھ کر بیٹھ جاتے ہو۔ نہیں، مومن کے ایمان کی کسوٹی میدان جہاد ہے جہاں ہر مسلمان کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے خواہ وہ سنی ہو، خواہ شیعہ ہو، خواہ حنفی ہو، خواہ مالکی، خواہ آپ جیسا روشن خیال عالم ہو، خواہ میرے جیسا کم علم۔ دار الامن میں اگر تم لوگ ایک ہزار سال اور بھی مناظرے کرتے رہو تو بھی یہ ثابت نہ کر سکو گے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا لیکن میں نے قوقند میں اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک فرقے کا مسلمان دوسرے فرقے کے مسلمان کے لیے ڈھال تھا۔ حملے کے وقت ان کا نعرہ ایک تھا، شہادت کے وقت ان کا کلمہ ایک تھا۔ وہ سب ایک ہی قسم کے مسلمان تھے۔ ہاں میدان سے باہر میں نے کئی قسم کے مسلمان دیکھے ہیں۔ ہم میں وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ طاقت ور دشمن سے جہاد جائز نہیں، ہم میں وہ بھی ہیں جو دشمن کا نام سن کر بھاگ جاتے ہیں، ہم میں وہ بھی ہیں جو اپنی ذات کو چنگیز خان کی نظر کرم کا مستحق بنانے کے لیے عالم اسلام کو تاتاریوں کے پاس فروخت کر رہے ہیں اور تمہارے اس شہر میں بھی جہاں ہر عالم کو دوسرے کا ایمان ناپنے کی فکر ہے، اونچے ایوانوں میں رہنے والوں کی ایک ایسی جماعت موجود ہے جو ترکستان پر تاتاریوں کی یلغار کی حمایت کرتی ہے۔
میرے عزیزو اور بزرگوار! شاید مجھے بغداد میں اتنے بڑے مجمع کے سامنے دوبارہ تقریر کرنے کا موقع نہ ملے، میری باتیں کان کھول کر سنیے اور میرا پیغام ہر اس شخص تک پہنچا دیجیے جسے قوم کے مستقبل کا تھوڑا بہت خیال ہے۔ تاتاریوں کا سیلاب معمولی سیلاب نہیں ہے اور اس وقت دولتِ خوارزم اس سیلاب کے سامنے آخری چٹان ہے۔ اگر یہ چٹان نابود ہو گئی تو یہ نہ سمجھو کہ یہ سیلاب وہیں رک جائے گا۔ اس کی شرکش لہریں کسی دن بغداد کے بلند ایوانوں کو بھی متزلزل کر دیں گی۔ اگر ہم نے غفلت کی تو ہم صفحہ ہستی سے مٹا دیے جائیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام مٹا دیا جائے گا۔ اسلام مٹنے والی چیز نہیں۔ یہ اللہ کا دین ہے، اگر تم اس کی حفاظت نہ کر سکے تو اللہ کسی اور قوم کو اس کی حفاظت کے لیے منتخب کر لے گا۔ یہ ایک ایسا سفینہ ہے جس پر کوئی طوفان غالب نہیں آ سکتا۔ یہ ہمیشہ تیرتا رہے گا۔ اگر تم اس سفینے کو چھوڑ کر دوسری کشتیوں پر سوار ہو گئے تو تم خود ڈوب جاؤ گے۔
(نسیم حجازی بزبان طاہر بن یوسف، آخری چٹان) 


0 comments:

Post a Comment

Need Your Precious Comments.

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...