How Future Dreams takes to the Death Trip


روزگار کی تلاش میں جان سےگیا

یونان میں تارکین وطن(فائل فوٹو)
تین سال پہلے بھی ترکی جانے والے لگ بھگ چار سو لڑکوں کو یورپ داخلے ہونے کے لیے غیرقانونی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا
’روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے والا وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ سینکڑوں لوگ کام کاج کے لیے ملک سے باہر جاتے ہیں لیکن اس کے مقدر میں موت ہی لکھی تھی۔‘
یہ الفاظ نوجوان لقمان کے والد محمد یوسف کے ہیں جن بیٹا غیر قانونی طور پر بیرون ملک جاتے ہوئے اپنی زندگی
کی بازی ہار گیا۔
تئیس سالہ محمد لقمان ان سولہ لڑکوں میں ایک ہے جو ترکی کے راستے یورپ جانے کے لیے کنٹینر میں دم گھٹنے سے جان بحق ہوگئے ہیں۔لقمان کے والد ایک سرکاری سکول میں بطور کلرک اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے محمد یوسف نے بتایا کہ ان کا بیٹا لقمان سات جولائی کو پاکستان سے روانہ ہوا تھا اور ان کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا کسی قانونی طریقے سے نہیں جا رہا کیونکہ سینکڑوں لوگ روزگار کے لیے بغیر ویزہ سرحد عبور کرتے ہیں اور بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔
میرے بیٹے کو بیرون ملک جانے کا شوق نہیں تھا بلکہ وہ روزگار نہ ملنے پر کام کاج کی خاطر ملک سے باہر جانا چاہتا تھا
محمد یوسف
ان کے بقول بس مقدر کی بات ہے ان کے بیٹے موت لکھی تھی ورنہ کتنے ہی لوگ ایسے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ لقمان کا ایک بھائی اس وقت مقامی کالج میں فرسٹ ائیر کا طالب ہے جبکہ لقمان انڈر میڑک تھا۔
ہرسال پاکستان سے سینکڑوں افراد انسانی اسمگلروں کو چار سے پانچ لاکھ روپے دے کرغیر قانون غیرقانونی طریقہ سے ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی نوجوان کامیاب ہوجاتے ہیں اور کئی گرفتار ہونے پر قید کاٹنے کے بعد خالی ہاتھ واپس آجاتے ہیں۔
لقمان کے والد محمد یوسف نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو بیرون ملک جانے کا شوق نہیں تھا بلکہ وہ روزگار نہ ملنے پر کام کاج کی خاطر ملک سے باہر جانا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کئی لوگ ایجنٹوں کے ذریعے جاتے ہیں اور ان کے بیٹے کے جاننے والے بھی اس طرح ملک سے باہر گئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو باہر بھجوانے والے ایجنٹ سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس کے خلاف کچھ نہیں ہوگا۔
محمد یوسف نے بتایا کہ ابھی ان کی بیٹے کی لاش نہیں ملی ان کی بس یہ خواہش کی ہے کہ ان کے بیٹے کی میت گھر پہنچ جائے۔
تین سال پہلے بھی پنجاب سے ترکی جانے والے لگ بھگ چار سو لڑکوں کو یورپ داخلے ہونے کے لیے غیرقانونی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں گوجرانوالہ کا ایک نوجوان ٹانگ میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاتھا اور قید کاٹنے کے بعد ان لڑکوں کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔
پنجاب کے علاقوں گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات سے بڑی تعداد میں لوگ غیر قانون طور پر باہر جانے کے لیے ایجنٹوں کو اپنی اراضی فروخت کر کے یا پھر قرض لے کر یورپ بھجوانے کی کوشش کرتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں مزید مالی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

Need Your Precious Comments.

Mission of Sovereign Pakistan

SP1947's Major Purpose is To Educate and Inform the People of Pakistan about Realty and Facts. Because its Our Right to Know What is Realty and Truth..So Come and Join Us and Share Sp1947.blogspot.com with your Friends Family and Others.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com is Providing Daily Urdu Columns, Urdu Articles, Urdu Editorials, Top Events, Investigative Reports, Corruption Stories in Pakistan from Top Pakistani Urdu News Newspapers Like Jang, Express, Nawaiwaqt, Khabrain.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Sp1947.blogspot.com Has a Big Collection of Urdu Columns of Famous Pakistani Urdu Columnists Like Columns of Javed Chaudhry, Columns of Hamid Mir, Columns of Talat Hussain, Columns of Dr Abdul Qadeer Khan, Columns of Irfan Siddiqui, Columns of Orya Maqbool Jan, Columns of Abdullah Tariq Sohail, Columns of Hasan Nisar, Columns of Ansar Abbasi, Columns of Abbas Athar, Columns of Rauf Klasra and Other Pakistani Urdu Columns Writers on Burning Issues and Top Events in Recent Pakistani Politics at One Place.
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Disclaimer
===========
All columns, News, Special Reports, Corruption Stories Published on this Website is Owned and Copy Right by Respective Newspapers and Magazines, We are Publishing all Material Just for Awareness and Information Purpose.