اس آئینے میں امریکہ سب سے زیادہ ہواس باختہ نظر آرہا ہے کیونکہ اس کئی چہرے ایسے وقت میں بے نقاب ہوئے ہیں جب وہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے نعرے اور سہارے سب کو اپنے پرچم تلے جمع کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اب تو دہشت گردی کے نام پر چلنے والے اس تماشے کو منظر عام پر لایاج اچکا ہے اس لیے امریکہ کو اب سب سے بڑی پریشانی یہ ہےکہ اس کے بعد کیا ہوگا اور اب وہ کس نعرےکا سہارا لے گا۔ کیونکہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر امریکہ نے ساری دنیا میں جو زیادتیاں کی ہیں وہ نا قابل معافی ہیں اور اب دنیا ان کو نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کر رہی کہ آج کے طاقتور ممالک آخر دنیا کو کس جانب لے کر جانا چاہتے ہیں۔کیونکہ اب تک امریکہ نے جن ممالک کے ساتھ دوستی کی اور دہشت گردی کے حوالے سے اس سے ہاتھ ملایا ، اس سے امریکہ نے اس کے بر عکس کام لیا ہے ۔ اسی لیے ویکی لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد پریشانی صرف امریکہ کو ہی لاحق نہیں ہے بلکہ کئی ممالک کے ان سر براہوں کوبھی پریشانی کا سامنا ہے جنھوں نے اپنے ملک کے ساتھ غداری کی اور معمولی چمھ دمک کی خاطر ملک کی غیرت کو بیچنے کا کام کیا ہے۔ ویسے تو اس حوالے سے کم ہی ایسے ملک ہیں جن کے نام سامنے نہیں آئے ہیں اور کم ہی ایسی مشہور شخصیات ہیں جن کےکارناموں کے بارے میں نہیں کچھ کہا گیا ہے۔
ابھی تو یہ پردہ اٹھا ہے اور اب کئی اور خفیہ معلومات سامنے آنے والے ہیں ۔ان سے بھی کئی گتھیاں الجھیں گی بھی اور سلجھیں گے بھی ، Sourceہماری طرح دنیا کی نگاہیں بھی اس جانب لگی ہوئی ہیں۔

0 Comments
Need Your Precious Comments.