Sovereign Pakistan

Proud to be a Muslim,Pakistani,News,Top Stories,Talk Shows,Best Columns,History of Pakistan,Patriotic Ism,Unity,Integrity of Pakistan.Samiullah Malik London,Javed Chaudhry, Talhat Hussain, Orya Maqbool Jaan,Harron ur Rashed,Urdu columns and articles are compiled from leading Urdu newspapers and magazines.Live News and Sports Channels Like Dunya News,Aaj News,Samaa News,CNN,Waqat News,FM100 Radio.

Sunday, January 25, 2015

مولانا امیر حمزہ کا خصوصی کالم "حرمت رسول اور کوڑھ مغز لوگ"



مسیحی لوگوں کا سب سے بڑا فرقہ ’’کیتھولک‘‘ ہے۔ اس فرقے کا مرکز اٹلی کا شہر روم ہے۔ عیسائیت کا دوسرا
 بڑا علمبردار ملک فرانس ہے، البتہ قوت کے لحاظ سے فرانس پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے دارالحکومت پیرس سے ایک ہفت روزہ شائع ہوتا ہے، اس کا نام ’’چارلی‘‘ ہے۔ چارلی نے اللہ کے رسولﷺ کے خاکے 2011ء سے شائع کرنے شروع کئے، آخرکار اس رسالے کا سارا عملہ ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اس رسالے کا ایک بانی رکن مسٹر ہیری بتلاتا ہے کہ میں نے چارلی کے ایڈیٹر شارب کو سمجھایا کہ ایسا ہرگز نہ کرو، تمہارا یہ رویہ اسلام دشمن پالیسی ہے۔ یہ پالیسی ساری دنیا کے مسلمانوں کو اشتعال دلائے گی۔ میری اس تجویز کو شارب نے مسترد کر دیا اور خاکوں کی اشاعت کو ’’ایڈیٹر کا فیصلہ‘‘ قرار دے کر مجھے مایوس کر دیا، لہٰذا عملے کے بارہ بندوں پر حملے اور ہلاکت کا ذمہ دار چارلی کا ایڈیٹر شارب ہے جو ہٹ دھرم اور ضدی تھا، کوڑھ مغز تھا۔
قارئین کرام! ٹیلی گراف میں دیئے گئے بیان کے مطابق چارلی کا ایڈیٹر کوڑھ مغز تھا یعنی جس طرح کوڑھ ایک بیماری ہے، اسے جذام بھی کہتے ہیں اور ایسے مریض کے قریب بھی کوئی نہیں آتا۔ یہ بیماری چارلی کے ایڈیٹر شارب کے دماغ میں تھی، اس کی سوچ اور تصورات میں کوڑھ اور جذام تھا، یہ وہی بیماری ہے جس کے مریض پر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اپنا ہاتھ مبارک پھیرتے تھے اور مریض تندرست ہو جاتا تھا۔ یہ بات انجیل میں بھی ہے اور قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔ جی ہاں! یہ بیماری ایک ایسے شخص کے خیالات میں تھی جو اپنے آپ کو مسیحی کہلاتا تھا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ وہ اور اس کا عملہ نام کے مسیحی تھے۔ اصل میں وہ صہیونی یہودیوں کے آلہ کار اور ملحد تھے۔ بہرحال! وہ جو بھی تھے، کوڑھ مغز تھے۔
حیرت تو ان چالیس لوگوں پر ہے جن میں یورپ اور دیگر ملکوں کے حکمران اور نمائندے تھے۔ ان سب کو ترقی یافتہ کہا جاتا ہے اور مہذب کہا جاتا ہے۔ یہ کیسے تہذیب یافتہ لوگ تھے کہ فرانس میں اکٹھے ہو کر سب اعلان کر رہے تھے کہ ہم سب چارلی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اعلان کر رہے تھے کہ جس طرح مسٹر شارب کوڑھ مغز تھا ہم بھی اسی طرح کے کوڑھ مغز لوگ ہیں۔ ہم شارب کے پشتیبان ہیں، وہ جو کر رہا تھا درست کر رہا تھا، ہم سب اس کی حرکتوں کی تائید کرتے ہیں۔ فرانس کا مسٹر ہنری بے چارہ پہلے ایک کوڑھ مغز پر کڑھتا تھا اب اسے چالیس کوڑھ مغزوں پر کڑھنا پڑے گا۔ انصاف پسند لوگ تو اس وقت بھی کڑھے تھے جب سلمان رشدی کو برطانیہ نے ایوارڈ دیا۔ ایوارڈ بھی وہ دیا جو برطانیہ کے لئے جنگی خدمات سرانجام دینے والوں کو دیا جاتا تھا۔ اسے نائٹ ایوارڈ (Knight Award) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح تسلیمہ نسرین کو بھی حکومت فرانس کی جانب سے انسانی حقوق کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی قماش کے دیگر گستاخوں کو بھی یورپ کے مختلف ملکوں نے انعام دیئے۔ اور اب سب نے مل کر کہہ دیا کہ ہم ان لوگوں کے ہمنوا ہیں، ان لوگوں کے ہم زبان ہیں، ہم سب چارلی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں بہت دکھی ہوں کہ تہذیب مر گئی، میں انتہائی غمناک ہوں کہ شائستگی دم توڑ گئی، میں انتہائی کرب میں ہوں کہ کوڑھ مغز تصور اجاگر ہو کر علانیہ سامنے آیا ہے۔
اے دنیا کے مہذب لوگو! کس کے خلاف؟ ارے، اس ہستی کے خلاف کہ جن پر جو آخری کتاب قرآن نازل ہوئی، اس قرآن نے ایک خالق کی عظمت کو بیان کیا، صفات کو بیان فرمایا اور پھر صاحب قرآن حضرت محمد کریمﷺ کی زبان سے اک انتہائی شائستہ اور مہذب اعلان ہوا۔ اپنے ماننے والوں کے لئے اک درس اور نصیحت کا اعلان ہوا، فرمایا:
’’یہ (شرک کرنے والے لوگ) اللہ کو چھوڑ کر جن (مورتیوں وغیرہ) کو پکارتے ہیں، اے مسلمانو! ان کو برا بھلا مت کہنا کیونکہ اس طرح وہ نادان لوگ دشمنی میں آ کر اللہ کو گالی دے دیں گے۔‘‘ (انعام: 108)
ہاں ہاں! ارے کس کے خلاف؟ اس عظیم ہستی کے خلاف کہ جنہوں نے اپنے ماننے والوں کو یہ سبق دیا کہ شیطان کو بھی گالی نہ دو (سلسلہ البانی)۔ اللہ اللہ! میرے حضورﷺ کا اخلاق اس قدر آسمانوں کی بلندیوں پر کہ کہیں حضورﷺ کا کلمہ پڑھنے والے کا اخلاق متاثر نہ ہو، زبان آلودہ نہ ہو، بدزبانی کا عادی نہ بن جائے، لہٰذا شیطان کی شرارتوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ضرور طلب کرو مگر اسے گالی نہ دو۔ لوگو! میرے حضورﷺ کے بلند اخلاق کے واقعات پر تو کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں مگر میں نے صرف ایسی دو چیزوں کاذکر کیا ہے کہ جہاں گالی دینے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا، اخلاق کے منافی نہیں سمجھا جاتا کہ ایک پتھر کی مورتی ہے، اور دوسرا شیطان ہے۔ میں صدقے جاؤں اپنے حضورﷺ کے بلند اور عظیم اخلاق پر کہ ان کے بارے میں بھی اخلاق اور شائستگی کا درس دے دیا۔ ایسی محترم ہستی کے خلاف اے چالیس لوگو۔۔۔ تم کھڑے ہو جاؤ، پھر مسٹر ہنری فرانسیسی کی زبان میں تم لوگوں کو کوڑھ مغز نہ کہوں تو کیا کہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی جسمانی کوڑھوں کا علاج کیا تھا، ذہنی کوڑھوں کا کیا علاج ہو؟ کوڑھ مغزوں کا کیا علاج ہو؟ ذرا بتلاؤ تو اے اپنے آپ کو مہذب کہلانے والو؟
امریکہ کے دو اخبارات واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز نے دنیا کے دو حکمرانوں کے خاکے بنائے، اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کا خاکہ کہ اس کے دونوں ہاتھ غزہ کے بچوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے احتجاج کیا اور اخبار نے معافی مانگ لی۔ اسی طرح انڈیا کے نریندر مودی کو گائے کے ساتھ اڑتے ہوئے فضا میں دکھلایا گیا۔ یہ مذاق تھا مودی کی اس بات کا کہ موجودہ خلائی ٹیکنالوجی تو ہمارے دیوتاؤں نے دی تھی۔ ہاں ہاں! اخبار نے اس پر بھی معذرت کر لی۔ بتلاؤ! اب تمہاری آزادی اظہار رائے کہاں گئی؟ مر تو وہ پہلے ہی چکی تھی کہ ہولوکاسٹ پر کوئی رائے کا اظہار نہیں ہے۔۔۔ پھر تم لوگوں کو محض ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی محبوب ہستی ہی مزاحیہ خاکوں کے لئے ملی ہے؟ جمہوریت یہ ہے کہ رائے عامہ کا احترام کیا جاتا ہے۔ ڈیڑھ ارب انسانوں کی رائے کا احترام کہاں گیا؟ جمہوری رویہ کہاں دم توڑ گیا؟
تم لوگ امن کی باتیں کرتے ہو، ایسے توہین آمیز رویوں سے بتلاؤ، دنیا میں امن آئے گا یا امن غارت ہو گا؟ یقیناًامن غارت ہو گا، پھر امن کا دشمن کون ہے؟ دہشت گرد کون ہے؟ سوال ہے میرا اے چالیس ملکوں کے چالیس نمائندو! ذرا بتلاؤ تو سہی، کوڑھ مغز کے حامل رویے جاری رہے تو امن کی فاختہ کو کون دیکھے گا؟ حضرت محمد رسول کریمﷺ کی حرمت و عزت کے تحفظ کا قانون نہ بنا تو اے سلامتی کونسل والو! دنیا کو سلامتی کیسے ملے گی؟ کیونکر ملے گی؟ جواب دو جواب
Read more ...

Wednesday, December 17, 2014

Peshawar Attack , what we have to do by Haroon ur Rasheed


Read more ...

Sunday, November 9, 2014

A column on thinking of Allama Iqbal rahimahullah


Read more ...

Tuesday, August 12, 2014

Pakistan made for Rule of Allah


پاکستان سیکولر ملک یا اسلامی فلاحی ریاست ؟
پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ مصور پاکستان علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے قیام کا جواز واضح طور پر یہ بتایا کہ دور ملوکیت میں اسلام کے چہرے پر جو بدنما داغ پڑ گئے تھے انہیں ختم کر کے ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جائے گی۔ قائداعظم نے قبل از تقسیم کہہ دیا تھا کہ پاکستان کا آئین قرآن پاک کی صورت میں تیرہ سو سال سے موجود ہے ۔ یقیناً قائداعظم تھیو کریسی کے خلاف تھے، لیکن انہوں نے اپنی تحریر و تقریر میں کبھی سیکولرازم کا لفظ استعمال کرنا گوارہ نہ کیا تھا۔ قیام پاکستان کے صرف ڈیڑھ ساتھ بعد 1949 میں قراردادِ مقاصد نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ پاکستان خالصتاً ایک اسلامی ریاست ہوگی۔ پاکستان کے سیکولر طبقات اور بیرونی بدخواہوں نے قائداعظم کی 11 اگست 1947 کی تقریر کی من مانی تاویلات کرکے یہ ثابت کرنا چاہا کہ قائداعظم پاکستان کو سیکولر ملک دیکھنا چاہتے تھے ۔ ان تاویلات کی حقیقت کیا یہ ایک الگ موضوع ہے ، لیکن جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر میں سرے سے کوئی متنازعہ بات موجود ہی نہ تھی۔ یہ عدلیہ کے ایک سابقہ سیکولر منصب دار نے خیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض جملوں کا اپنی طرف سے اضافہ کردیا تھا۔ برٹش لائبریری کی پوری چھان بین کے باوجود ان اضافی جملوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ( بحوالہ سلینہ کریم -Secular Jinah & Pakistan : what the 
nation does not know ) 
ہندوستان کی وزارت خارجہ بھی اس حوالہ سے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو کورا جواب دے چکی ہے ۔ مزید یہ کہ ڈان نیوز اخبار 12 اگست کو شائع ہی نہیں ہوا تھا - لہذا یہ دعویٰ بھی جھوٹ کا پلندہ ہے کہ 11 اگست کی تقریر ڈان میں شائع ہوئی تھی۔ پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم نے اسرائیل کو تسلیم نا کرکے عرب مسلمانوں کے ساتھ اپنے انسانی اور اسلامی جذبے کا سنگ میل شروع کیا، کوئی ایک سیکولر ملک بتادیں جس نے اسرائیل کو تسلیم نا کیا ہو ؟ قائداعظم نے اسرائیلی وزیر اعظم کو صاف صاف لفظوں میں کہا کہ ( “Every man and woman of the Muslim world will die before Jewry seizes Jerusalem. I hope the Jews will not succeed in their nefarious designs and I wish Britain and America should keep their hand off and then I will see how the Jews conquer Jerusalem. The Jews, over half a million, have already been accommodated in Jerusalem against the wishes of the people. May I know which other country has accommodated them? If domination and exploitation are carried now, there will be no peace and end of wars” -Jinnah )
قائداعظم کا یہ جواب تھا ( کہ تمام مسلمان مرد و عورت یہودیوں کے بیت المقدس پر قبضے سے پہلے مر جائیں گے ( لیکن ان کے ہاتھ نہیں لگنے دیں گے ) مجھے یقین ہے کہ اگر امریکہ و برطانیہ اسرائیل پر سے ہاتھ اٹھا لے تو میں دیکھوں گا اسرائیل فلسطین کے لوگوں کی خواہش کے برعکس کیسے بیت المقدس کو پر قبضہ کرتے ہیں۔ کیا میں جان سکتا ہوں کس کس ملک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ؟ اگر جبری تسلط اور استحصال اسی طرح رہا تو یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوگی نا امن ہوگا ) ۔
سیدھی سی بات ہے کہ سیکولر پاکستان بنانے کے لیے سیکولر بھارت سے الگ ہونے کی ضرورت کیوں تھی ؟ تاریخ کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کیوں عمل میں آئی ؟ لاکھوں جانوں کی قربانی کیوں دی گئی ؟ ہزاروں مسلمان عورتوں کی عزت و عصمت کی قربانی کیوں گوارا کی گئی ؟ اگر سیکولر ملک ہی بننا تھا تو بھارت میں ہی رہتے ؟ 
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ مصطفوی دیس کے قیام کے لیے قربان کیا گیا - ہم نے دنیا کو پاکستان کا مطلب کیا " لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ " بتایا ،اس لیے اللہ نے ہماری مدد کی پاکستان صرف 7 سال کے قلیل عرصہ میں بنا تھا، 23 مارچ 1940 کو قراداد پاکستان منظور ہوئی اور 14 اگست 1947 کو پاکستان بن گیا ۔ قائداعظم جو سخت بیمار تھے انہوں نے اپنی بیماری انگریزوں اور ہندووں سے چھپائی تھی تا کہ ان کو خبر ہو گئی تو کبھی پاکستان نہیں بنے گا۔ اس راز کو صدی کا سب سے بڑا سایسی راز کہا جاتا ہے ۔
لیکن ہم نے کیا کیا ؟ خود ہی منحرف ہوگئے۔ وعدہ خلافی پر سزا کا پہلا کوڑا 1971 میں ہماری پیٹھ پر پڑا جب بھارت کی منصوبہ بندی اور پاکستان کی نااہلی سے دولخت ہوگیا۔ موجودہ پاکستان اس لیے لڑ کھڑا رہا ہے کہ اس کی تعمیر اس کی اصل بنیاد سے ہٹ کر کی گئی ہے ۔ غیر ہی نہیں خود اہل پاکستان بھی اس کی بقاء اور سلامتی کے حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ حالات اس قدر نہج پر پہنچ چکے ہیں الیکٹرانک و پریس میڈیا نے اس قدر منافقت و غلط خبریں شائع کی ہیں کہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی کو اپنی تقریر میں کہنا پڑا کہ " پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا ، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے اور اسلام کو پاکستان سے خارج نہیں کیا جا سکتا " ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ نظریہ پاکستان کی عملی تعبیر ہی پاکستان کو ناصرف محفوظ و مامون بنا سکتی ہے بلکہ ایک مضبوط و توانا ریاست بنا سکتی ہے ۔ آج جو بے حیائی اور معاشرے میں غلاظت ہے سب اسلام سے دوری کی وجہ سے ہے، ہم نے اللہ سے اور اس کے رسول سے غداری کی ہے، اس کے نام پر ملک مانگ کر یہاں قحبہ خانے کھول لیے۔ چور بازاری ڈاکے زنا اغوا دہشتگردی ننگے ڈانس ملاوٹ کیا جرم ہے جو ہم نے نہیں کیا۔ اور دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کیا، دیکھو ہم کیا کر رہے ہیں اس کے ساتھ ،حسن نثار حامد میر عاصمہ جہانگیر اور بہت سے فاشٹ اس بات پر مصر ہیں کہ پاکستان میں سے اسلام ختم ہونا چاہیے جو حالت پاکستان کی ہے میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اسلام ہے کہاں ؟؟ یہاں تو اسلامی کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا ہے ۔
پاکستان اسلام کے نام بنا ہے اور صرف اسلامی فلاحی ریاست کی صورت میں ہی زندہ و پائندہ رہ سکتا ہے ، اللہ اس کو ہمیشہ زندہ و سلامت رکھے آمین ( ایڈیٹنگ عدنان رسول بشکریہ نوائے وقت ) 
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر
Read more ...

Thursday, May 15, 2014

Perfect Guide to Protect and care your Children by Ibtisam Elahi Zaheer



Read more ...
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...